ایڈن پارک کے میدان پر روایتی حریفوں کا ٹاکرا ایک بار پھر نیوزی لینڈ کے نام رہا جہاں میزبان ٹیم نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے آسٹریلیا کو شکست دے کر بلیڈزلو کپ پر مسلسل 23 ویں سال بھی قبضہ برقرار رکھا۔ بی بی سی اسپورٹس کی رپورٹ کے مطابق اس کامیابی نے آکلینڈ کے اس تاریخی میدان پر نیوزی لینڈ کے ناقابل شکست رہنے کے سلسلے کو 34 سال تک طویل کر دیا ہے۔

بی بی سی اسپورٹس کے مطابق میچ کے پہلے حصے میں آسٹریلیا کی ٹیم نے سخت مقابلہ کیا اور وقفے تک اس کا اسکور 17 کے مقابلے میں 14 پوائنٹس تھا جس میں ٹٹم رائٹ اور ہیری ولسن کی ٹٹرائزائز شامل تھیں۔ تاہم میچ کے دوسرے حصے میں نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھیل پر مکمل گرفت مضبوط کی۔ میزبان ٹیم کی جانب سے پیٹر لکائی، توپو وائی، کیم روئگارڈ، کوڈی ٹیلر، لیرائے کارٹر، جوش موربی اور ول جارڈن نے مجموعی طور پر سات ٹٹرائزائز اسکور کیے۔ اس کے علاوہ فلائی ہاف ڈیمین میک کینزی نے چھ کنورژنز اور ایک پینلٹی کک کی مدد سے ٹیم کے لیے 15 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔

پس منظر

بی بی سی اسپورٹس کی رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ کی ٹیم 1994 کے بعد سے ایڈن پارک پر کوئی میچ نہیں ہاری اور اس میدان پر اس کا ناقابل شکست سلسلہ 54 ٹیسٹ میچوں تک پہنچ چکا ہے۔ دوسرے حصے میں آسٹریلوی ٹیم میزبان سائیڈ کے حملوں کا دباؤ برداشت نہ کر سکی اور پچاس کے ہندسے کو عبور کرتے ہوئے شکست سے دوچار ہوئی۔

اس فتح نے نیوزی لینڈ کے لیے اس تین میچوں کی ہار کے سلسلے کو بھی روکا جو اسے گرمیوں کی سیریز میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں 3-1 سے ملی تھی۔ دوسری طرف بی بی سی اسپورٹس کے مطابق اس شکست نے آسٹریلیا کے کوچ لیس کِس کے دور میں ٹیم کی فتح کا چھ میچوں کا مسلسل سلسلہ بھی توڑ دیا جو انہوں نے جولائی میں جو شمٹ کی جگہ سنبھالا تھا۔

یہ اہمیت کیوں رکھتا ہے

بین الاقوامی رگبی کے کھیل میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ میچ روایتی طاقتوں کے غلبے اور میدان پر طویل عرصے تک ریکارڈ برقرار رکھنے کی مشکل جنگ کی ایک بڑی مثال ہے۔

آگے کیا ہوگا

بی بی سی اسپورٹس کے مطابق اس دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا اگلا اور دوسرا میچ 17 اکتوبر کو سڈنی کے ایکور اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔