وفاقی دارالحکومت کے ایوانوں سے ایک اہم قانونی خبر سامنے آئی ہے جہاں سابق وفاقی وزیر مواصلات اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ایف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے صاحبزادے اسد محمود کو دو بڑے تحقیقاتی اداروں کا سامنا ہے۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پاکستان پوسٹ آفس میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے سلسلے میں سابق وزیر کو طلب کر لیا ہے۔

جیو نیوز کے مطابق نیب نے اسد محمود کو 10 نومبر کو صبح 11 بجے اپنی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی ہے تاکہ بھرتی کے عمل کے بارے میں سوالات کے جوابات دیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ جیو نیوز نے یہ بھی بتایا کہ ایف آئی اے کے انسداد بدعنوانی سرکل اسلام آباد نے بھی اسد محمود کو 2 نومبر کو صبح 11 بجے طلب کیا ہے تاکہ وہ پاکستان پوسٹ کی بھرتیوں میں مبینہ بدعنوانی اور سنگین بے ضابطگیوں کے حوالے سے اپنا بیان ریکارڈ کرا سکیں۔

پس منظر

جیو نیوز کے مطابق یہ تحقیقات پاکستان مسلم لیگ ن (پی ایم ایل این) کی اتحادی حکومت کے دور میں پاکستان پوسٹ آفس میں ہونے والی تقرریوں پر مرکوز ہیں، جب اسد محمود وفاقی وزیر مواصلات کے منصب پر فائز تھے۔ یہ انتظامیہ اپریل 2022ء میں تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے بعد برسرِ اقتدار آئی تھی۔

جیو نیوز کے ذریعے سامنے آنے والی نیب نوٹس کی تفصیلات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 3938 خالی اسامیوں پر بھرتی کی اجازت دی تھی، لیکن مبینہ طور پر 4252 افراد کو بھرتی کیا گیا جو کہ منظور شدہ تعداد سے زیادہ ہے۔ نوٹس میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ کابینہ کمیٹی کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 2646 ختم کی گئی اسامیوں پر تقرریاں کی گئیں، اور ٹیسٹنگ ایجنسی کے ذریعے معاہدے کی بنیاد پر بھرتی کی سفارشات کے باوجود مستقل تقرریاں عمل میں لائی گئیں۔ بیورو کی طرف سے بیان کردہ دیگر الزامات میں جعلی دستاویزات کا استعمال، حد عمر سے تجاوز کرنے والے امیدواروں کی بھرتی، اور ڈومیسائل کوٹے کی خلاف ورزی شامل ہے۔ جیو نیوز کے مطابق بیورو نے خبردار کیا ہے کہ سمن پر عمل نہ کرنے کی صورت میں قومی احتساب آرڈیننس 1999ء کے سیکشن 31 کے تحت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

اہمیت کیوں رکھتی ہے؟

پاکستان میں سرکاری امور اور انتظامیہ پر نظر رکھنے والے عام شہریوں اور مبصرین کے لیے یہ موازی تحقیقات سرکاری بھرتی کے طریقہ کار، سرکاری کوٹوں اور کابینہ کی ہدایات پر عمل درآمد کے سلسلے میں سخت جانچ پڑتال کو اجاگر کرتی ہیں۔ یہ تحقیقات پبلک سیکٹر کی تقرریوں میں شفافیت اور جوابدہی کے سوالات کو چھوتی ہیں، جو وزارتی دور حکومت اور سرکاری اداروں کو چلانے والے قانونی فریم ورک کا امتحان لیتی ہیں۔