وفاقی دارالحکومت میں اہم فیصلے کرتے ہوئے وفاقی کابینہ نے کویت کے ساتھ دفاعی معاہدے کی باضابطہ توثیق کر دی ہے جس کے تحت دونوں برادر ملکوں کے درمیان عسکری اور اسٹریٹجک تعاون کا نیا باب کھلے گا۔ جیو نیوز کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں یہ اہم فیصلے کیے گئے۔
اہم حقائق
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کا یہ معاہدہ ابتدائی طور پر 11 جون 2023 کو طے پایا تھا۔ اس تازہ توثیق کے بعد دونوں ممالک کے مابین عسکری تیاری، الیکٹرانک کمیونیکیشن سسٹمز، سائنسی تحقیق، ملٹری میڈیا اور ثقافتی و ورزشی سرگرمیوں میں تعاون کو فروغ ملے گا۔
جیو نیوز کے مطابق اس معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی ایک مشترکہ عسکری کمیٹی کرے گی جو مشترکہ مشقوں، سرکاری دوروں اور باہمی تعاون کے پروگراموں کا اہتمام کرے گی۔ یہ معاہدہ 5 سال کے لیے نافذ العمل رہے گا اور اگر کسی بھی فریق نے اسے ختم نہ کیا تو اس کی خود بخود تجدید ہو جائے گی۔ معاہدے کے تحت دونوں ملکوں پر لازم ہوگا کہ وہ دفاعی رازوں کی حفاظت کریں اور باہمی تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کریں۔ جیو نیوز نے بتایا کہ کویتی حکومت پہلے ہی 19 جولائی 2023 کو اس معاہدے کی توثیق کر چکی تھی۔
دفاعی معاہدے کے علاوہ جیو نیوز کے مطابق وفاقی کابینہ نے خیبر پختونخوا میں ہنگامی صورتحال کے نفاذ کے دوران صوبائی وزیر اعلیٰ کے اختیارات گورنر کو منتقل کرنے کی بھی منظوری دی۔ اس انتظام کے تحت گورنر ماہانہ جائزہ رپورٹ وفاقی حکومت کو ارسال کریں گے جبکہ کابینہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ گورنر کی قیادت میں خیبر پختونخوا ایڈوائزری کونسل عوامی فلاح و بہبود، خوشحالی اور امن کے لیے کام کرے گی۔
جیو نیوز نے مزید بتایا کہ وزارت خزانہ کی سفارش پر کابینہ نے جدید سیکیورٹی فیچرز اور جدید مواد سے تیار کردہ نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائنوں کی بھی منظوری دے دی ہے، جبکہ موجودہ کاغذی نوٹ کے متبادل کے طور پر 10 روپے کا سکہ لانے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ نے سرکاری اداروں سے متعلق کابینہ کمیٹی کے 26 اکتوبر کے اجلاس اور سال بھر میں منعقد ہونے والے قانون سازی کے فیصلوں کی بھی توثیق کر دی۔
پس منظر
جیو نیوز کے فراہم کردہ مواد کے مطابق پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کا یہ معاہدہ 11 جون 2023 کو طے پایا تھا جس کی توثیق اسی سال 19 جولائی کو کویتی حکومت نے بھی کی تھی۔ خیبر پختونخوا میں انتظامی امور کے تحت ہنگامی مدت میں وزیر اعلیٰ کے روزمرہ اختیارات صوبائی گورنر کو منتقل کیے گئے ہیں اور وفاقی حکومت کو ماہانہ رپورٹنگ کا سلسلہ رکھا گیا ہے۔ کرنسی کی اصلاحات کے سلسلے میں ملک بھر کے فنکاروں اور ڈیزائنرز کی جانب سے تجاویز پیش کی گئی تھیں جن کا جائزہ وزیر اعظم کی قائم کردہ کابینہ کمیٹی نے مشاورت کے بعد لیا۔
اس کی اہمیت کیا ہے
پاکستان کے عام شہریوں اور اداروں کے لیے یہ انتظامی اور قانونی منظوری روزمرہ گورننس، قومی سلامتی کے تعاون اور عوامی مالیات کے مختلف امور سے جڑی ہوئی ہے۔ کویت کے ساتھ معاہدے کی توثیق سے آئندہ 5 سال کے لیے دو طرفہ عسکری اور سائنسی روابط کا باضابطہ فریم ورک بن گیا ہے۔ دوسری جانب جدید سیکیورٹی خصوصیات والے نئے کرنسی نوٹوں اور 10 روپے کے سکے کی منظوری سے ملک بھر میں مالیاتی گردش اور جعل سازی کی روک تھام کے اقدامات پر اثرات مرتب ہوں گے۔

