بحری ناکہ بندی اور سخت ہوتی ہوئی پابندیوں کے درمیان تہران کو تیل کی مد میں غائب ہونے والے اربوں ڈالر کی وجہ سے ایک شدید اندرونی مالیاتی بحران کا سامنا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ملک کی تیل کی فروخت کا نظام سنبھالنے والے درمیانی کارندوں کا نیٹ ورک ایرانی حکومت کا 10 ارب یورو یعنی 11 ارب ڈالر سے لے کر 11 ارب یورو یعنی 12 ارب ڈالر کا مقروض ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، ستمبر میں ایرانی عدلیہ کے ترجمان نے بتایا تھا کہ یہ گمشدہ رقم موجودہ مالی سال کے سرکاری بجٹ میں تیل کی متوقع کل آمدنی کے نصف کے برابر ہے۔
دریں اثنا، امریکی حکام نے بھی اس صورتحال پر تبصرہ کیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے اگست میں بیان دیا تھا کہ ایران کا شیڈو بینکنگ سسٹم امریکہ کے دباؤ کے نتیجے میں دباؤ کا شکار ہے، اور تہران کو تیل کی آمدنی تک رسائی میں مشکلات کا سامنا اس حکمت عملی کے اثرات کا ثبوت ہے۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق، یہ قرض اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بحران تیل فروخت کرنے کے اس انتظام سے جڑا ہے جو تہران نے 2012 میں ایرانی تیل کی برآمدات اور آمدنی کے حصول کو نشانہ بنانے والی امریکی اور یورپی پابندیوں سے بچنے کے لیے اپنایا تھا۔ ان بین الاقوامی اقدامات کے پیچھے بیان کردہ جواز یہ تھا کہ تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی ایران کے جوہری پروگرام کی مالی معاونت میں مدد کرتی ہے، اور برآمدات کو محدود کرنے سے اس پروگرام کو آگے بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے۔
چونکہ ایرانی حکومت وزارت تیل کے ذریعے تیل فروخت کرنے اور مرکزی بینک کے ذریعے رقوم وصول کرنے سے قاصر تھی، اس نے گھریلو خریداروں کو تیل فروخت کرنا شروع کیا یا اسے سرکاری اداروں اور تنظیموں کے بقایاجات کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا۔ اس سے تیل کے درمیانی کارندوں کے ایک ایسے نیٹ ورک نے جنم لیا جنہیں ٹرسٹیز کہا جاتا ہے، جنہیں ریاست کی طرف سے خام تیل فروخت کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ ان رقوم کو سرکاری خزانے میں منتقل کیا جانا تھا۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
خطے کے مبصرین اور مشرق وسطیٰ کی توانائی کی حرکیات سے جڑی معیشتوں کے لیے، ایران کے مالیاتی ڈھانچے پر دباؤ بین الاقوامی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کی گہری پہنچ کو اجاگر کرتا ہے۔ اگرچہ ماخذ مواد میں پاکستان پر کسی خاص براہ راست اثرات کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، لیکن بڑے علاقائی تیل کی منڈیوں اور شیڈو بینکنگ نیٹ ورکس میں تبدیلیاں عالمی تجارت کی پیچیدہ پابندیوں کا سامنا کرنے والے ہمسایہ ممالک کے لیے وسیع معاشی مضمرات رکھتی ہیں۔

