الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق کولمبیا اگلے ہفتے یروشلم میں اپنا سفارت خانہ کھولنے جا رہا ہے، جس کے بعد وہ ان چند ممالک میں شامل ہو جائے گا جنہوں نے اس متنازع شہر میں اپنے سفارتی مشنز قائم کیے ہیں۔

اس پیشرفت کا اعلان اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈین سار نے یروشلم میں ایک کانفرنس کے دوران کیا، جہاں انہوں نے بتایا کہ لاطینی امریکی ملک کا یہ مشن آنے والے بدھ کے روز کھولا جائے گا۔ الجزیرہ نے بوگوٹا میں کولمبیا کی وزارت خارجہ کے ایک عہدے دار کے حوالے سے بتایا کہ کولمبیا کے وزیر خارجہ عمر بولا ایسکوبار افتتاح سے پہلے یروشلم کا دورہ کریں گے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈین سار کے مطابق یہ قدم خطے کے ساتھ اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات کا عکاس ہے۔

پس منظر

الجزیرہ کے مطابق کولمبیا کے صدر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اقتدار سنبھالنے کے بعد اگست میں سفارتی تعلقات بحال کر دیے تھے۔ اس سے پہلے غزہ کے تنازع کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے تھے۔ بین الاقوامی سطح پر یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نہیں کیا جاتا، اسی وجہ سے زیادہ تر ممالک اپنے سفارت خانے تل ابیب میں ہی رکھتے ہیں۔

الجزیرہ کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق سال 2018 سے لے کر اب تک چند ہی ممالک نے یروشلم میں اپنے سفارت خانے کھولے ہیں، جن میں امریکہ، گواتیمالا، پیراگوئے، کوسوو، ہنڈرڈاس، پاپوا نیو گنی، فجی، ناورو اور صومالی لینڈ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈین سار نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ کانگو کی جمہوریہ بہت جلد یروشلم میں سفارت خانہ کھولے گی اور برازیل میں صدارتی انتخابات کے پہلے دور کے بعد وہاں سے بھی ایسا ہی قدم اٹھائے جانے کا امکان ہے۔

دوسری جانب، الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا کی سڑکوں پر مظاہرین نے حکومت کی اسرائیل نواز پالیسی اور یروشلم میں سفارت خانہ کھولنے کے فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے ہیں۔

اس کی اہمیت کیا ہے

بین الاقوامی امور کے مبصرین اور عالمی سفارت کاری پر نظر رکھنے والوں کے لیے سفارت خانوں کی منتقلی کے یہ فیصلے یروشلم کی متنازع حیثیت اور اس سے جڑے جیو پولیٹیکل تنازعات کو ظاہر کرتے ہیں۔ جہاں بین الاقوامی برصغیر کی اکثریت عالمی اتفاق رائے کے تحت اپنے سفارتی مشنز تل ابیب میں رکھتی ہے، وہیں انفرادی ریاستوں کی جانب سے سفارت خانے منتقل کرنے کے اقدامات عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، جن پر اندرون ملک بھی مخالفت سامنے آ رہی ہے جیسا کہ بوگوٹا کے حالیہ مظاہروں سے ظاہر ہوتا ہے۔