وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کا براہ راست کنٹرول سنبھالے جانے کے بعد صوبے کی سیاسی فضا میں ایک بڑا آئینی موڑ آ گیا ہے، اور یہ فیصلہ مرکز اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات کے خاتمے کے بعد سامنے آیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائز پر صدر آصف علی زرداری نے اتوار کے روز ایمرجنسی کے نفاذ کے فرمان پر دستخط کیے۔
الجزیرہ کے مطابق، اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اس ایمرجنسی کی بنیادی وجوہات امن و امان کی ابتر صورتحال، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور معصوم شہریوں کا تحفظ ہیں۔ مزید برآں، الجزیرہ کی تفصیلات کے مطابق جونیئر وزیر داخلہ طلال چوہدری نے پیر کے روز تصدیق کی کہ صوبائی وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق، پی ٹی آئی کی پارٹی 2013 سے خیبر پختونخوا میں حکومت چلا رہی تھی۔ وفاقی مداخلت کا یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی طرف ایک مجوزہ احتجاجی مارچ کے معاملے پر مرکزی حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین مذاکرات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، صدر زرداری کے دستخط کردہ اعلان کے تحت گورنر فیصل کریم کنڈی—جو کہ وزیراعظم شریف کی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے تعلق رکھتے ہیں—صوبائی حکومت کے امور سنبھالیں گے۔ پارلیمنٹ، جہاں وزیراعظم شریف کی جماعت مسلم لیگ (ن)، پی پی پی اور ان کے اتحادیوں کو اکثریت حاصل ہے، اب اس صوبائی اسمبلی کے اختیارات سنبھالے گی جہاں پی ٹی آئی کی اکثریت تھی۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق، وزیر اعلیٰ، وزراء، مشیر، معاونین خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل فوری طور پر اپنے عہدوں سے ہٹ چکے ہیں۔
تاہم، لاہور میں مقیم وکیل اور لمز کے استاد حسن عبداللہ نیازی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے ایک مختلف نکتہ نظر پیش کیا، اور واضح کیا کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صوبائی اسمبلی یا اس کے منتخب وزیر اعلیٰ کو مستقل طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، انہوں نے اس صورتحال کو اس وقت تک معطل یا غیر فعال رہنے کے مترادف قرار دیا جب تک کہ ایمرجنسی ختم نہیں ہو جاتی، اور ایمرجنسی اٹھائے جانے کے بعد انہیں بحال کرنا ہو گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ فوج، جو پہلے ہی صوبے میں تعینات ہے، گورنر اور ان کی ٹیم کو امن و امان کی بحالی میں مدد فراہم کرے گی، جبکہ ایک الگ وفاقی حکم کے تحت افغان سرحد کے قریب زیادہ تر واقع 12 اضلاع کے لیے ایک سیکریٹریٹ قائم کر دیا گیا ہے جس کی سربراہی ایک ایڈیشنل چیف سیکریٹری کریں گے، جیسا کہ الجزیرہ نے رپورٹ کیا۔
اس کے مضمرات
عام شہریوں اور خیبر پختونخوا کے رہائشیوں کے لیے یہ اقدامات صوبائی انتظامی امور میں ایک گہری تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔ صوبائی حکومت کے معمول کے کاموں کی معطلی اور اسمبلی کے اختیارات وفاقی پارلیمنٹ کو منتقل ہونے کے بعد، اب خطے کا روزمرہ کا نظامِ حکومت عارضی طور پر وفاق نواز قیادت، فوج اور مقرر کردہ سیکریٹریٹس کے ہاتھ میں ہے، جس نے مقامی انتظامی اور سکیورٹی فیصلوں کے انتظام کا ڈھانچہ بدل دیا ہے۔

عمران خان
آصف علی زرداری
میاں محمد شہباز شریف