خیموں میں لگنے والے ریہرسل کے دوران گولیوں کی آوازیں گونجتی ہیں، جہاں گزه کے معروف ڈرامہ نگار علی ابو یاسین اس ہولناک تباہی کے باوجود فن تخلیق کرنے میں مصروف ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، لندن کی ادبی تنظیم 'انگلش پین' نے اس 62 سالہ فنکار کو ان کی فنی استقامت پر 'رائٹر آف کریج 2026' کے اعزاز سے نوازا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، علی ابو یاسین نے الشاطی پناہ گزین کیمپ میں نو جوانی کے دور میں ڈرامے لکھنے اور عود بجانے کی صلاحیتوں کو نکھارا تھا۔ اکتوبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد انہوں نے باقاعدہ ڈرامے لکھنا بند کر دیے اور اس کے بجائے بمباری کے دوران زندگی کو دستاویزی شکل دینی شروع کی، تاکہ لوگ خوف کے عالم میں بھی حالات سے آگاہ رہیں۔ انہوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ انہوں نے یہ سب کچھ اس لیے لکھا تاکہ "دنیا میرے مرنے سے پہلے میری آواز سن سکے"۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ علی ابو یاسین نے ایسے فنکاروں کے ساتھ کام کیا جو خیموں میں ریہرسل کرتے ہیں۔ اس دوران وہ کئی بار موت کے منہ سے بچے، اپنے اردگرد لوگوں کو مرتے دیکھا، ان کا بیٹا ملبے تلے دبا اور ان کا گھر بھی بمباری کا نشانہ بن گیا۔ علی ابو یاسین نے متعدد اسکرین پلے لکھے جنہیں انہوں نے چھپا کر رکھا اور نقل مکانی کے دوران اپنے ساتھ اٹھائے پھرے۔ وہ چند ہفتے قبل ایک آرٹسٹ ریزیڈنسی کے تعاون سے گزه سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق، علی ابو یاسین نے 2004 میں گزه شہر کے ثقافتی مرکز 'سعید المسیشل تھیٹر' کے ساتھ کام کا آغاز کیا تھا، جسے 2018 میں ایک بمباری کے دوران تباہ کر دیا گیا تھا۔ دی گارڈین نے اس سے قبل نامور ڈرامہ نگاروں اور تھیٹر ڈائریکٹرز کا ایک خط موصول کیا تھا جس میں اس حملے کو فلسطینی ثقافت اور شناخت کی علامت کا خاتمہ قرار دیا گیا تھا، جیسا کہ الجزیرہ نے نقل کیا ہے۔ 2008 میں علی ابو یاسین نے 'گزه مونولوگز' لکھنے کا آغاز کیا، جو گزه کی خوشیوں اور دکھوں دونوں کو اجاگر کرتی ہے۔ الجزیرہ نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ 2023 سے لے کر اب تک گزه میں 74 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور بقایا آبادی کی اکثریت بار بار نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔
اس خبر کی اہمیت کیا ہے
پاکستان اور دنیا بھر کے ان ناظرین کے لیے جو تنازعات کے شکار علاقوں سے آنے والی ثقافتی اور انسانی کہانیوں پر نظر رکھتے ہیں، علی ابو یاسین کی یہ پذیرائی اس بات کا ثبوت ہے کہ شدید ذاتی نقصان اور نقل مکانی کے باوجود فن اور دستاویزی عمل کی طاقت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
