الجزیرہ اور اے ایف پی کی رپورٹس کے مطابق ابراہیمی معاہدے پر دستخط کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ مراکش میں کسی دفاعی نمائش کے اندر اسرائیل کا سرکاری قومی پویلین قائم کیا گیا ہے۔ مراکش کے شہر مراکش میں واقع رائل مراکش ایئر فورس بیس پر جاری مراکش ایئر شو میں اس شرکت کو دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی ایک اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی وزارتِ دفاع کے اعلان کے مطابق اس دو سالہ تقریب میں آٹھ اسرائیلی دفاعی کمپنیاں اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی پیش کر رہی ہیں، جو کہ شہری اور عسکری ہوابازی اور خلائی صنعتوں کا احاطہ کرتی ہے۔ الجزیرہ نے بتایا کہ اس نمائش میں ایلبیٹ سسٹمز، آئی اے آئی اور رافیل جیسی بڑی اسرائیلی دفاعی کمپنیاں فضا، زمین، سمندر، خلا، انٹیلی جنس، سائبر اور ڈیجیٹل شعبوں میں اپنے دفاعی حل پیش کر رہی ہیں۔ ریوٹرز کی جاری کردہ تصاویر میں نمائش کے دوران اسرائیلی وزارتِ دفاع کے اسٹینڈ کو دیکھا جا سکتا ہے۔

پس منظر

رپورٹس کے مطابق دفاعی شعبے کی یہ عوامی سطح پر نمائش اس عرب شمالی افریقی ملک اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کا تازہ ترین قدم ہے، جنہوں نے سال 2020 کے امریکی حمایت یافتہ ابراہیمی معاہدے کے تحت سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ الجزیرہ نے ذکر کیا کہ گزشتہ ماہ دونوں ممالک نے اپنے سفارتی تعلقات کو اپ گریڈ کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس کے تحت مشنز کو سفارت خانوں میں تبدیل کیا گیا اور سفیروں کی تقرری عمل میں لائی گئی۔ یہ پیش رفت نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکی سفیر کی میزبانی میں ہونے والے دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد سامنے آئی۔

اس کے علاوہ دونوں ممالک نے ہوائی سفر کو وسعت دینے، براہ راست پروازوں کی بحالی اور اعلیٰ سطح کے دوطرفہ دوروں کی منصوبہ بندی پر بھی اتفاق کیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق مراکش ان پانچ ممالک میں شامل ہے جنہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹنپ کے نام نامی کے تحت تشکیل پانے والے بورڈ آف پیس کے حصے کے طور پر، امریکی حمایت یافتہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کے تحت غزہ میں فوج بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔

اس کی اہمیت

عالمی سفارت کاری کا جائزہ لینے والے بین الاقوامی مبصرین کے نزدیک مراکش اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ شراکت داری خطے میں بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی اتحادوں کو ظاہر کرتی ہے۔ جیسے جیسے دوطرفہ تعلقات سفارت خانہ سطح کے تعلقات اور مشترکہ دفاعی نمائشوں کی طرف بڑھ رہے ہیں، یہ تبدیلیاں بین الاقوامی معاہدوں اور علاقائی سلامتی کے فریم ورک سے متاثر ہونے والے وسیع تر سیاسی و عسکری رجحانات کی عکاسی کرتی ہیں۔