سات اکتوبر کے تلخ اور ہولناک واقعات کو گزرے ہوئے تین سال مکمل ہو چکے ہیں، مگر اس دن کے زخم اور سکیورٹی کی ناکامیوں پر جواب طلبی کا شور آج بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ متاثرہ خاندانوں اور عام شہریوں کا اصرار ہے کہ اتنے بڑے سانحے کے بعد اداروں اور حکمرانوں کی جواب دہی ناگزیر ہے تاکہ مستقبل کے لیے قلعہ بندی کو مضبوط کیا جا سکے۔

بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے اس سکیورٹی بریک ڈاؤن کی ذاتی ذمہ داری اٹھانے سے مسلسل گریز کیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے اس سانحے کے اسباب جاننے کے لیے کسی بھی باضابطہ سرکاری یا ریاستی انکوائری کا حکم دینے سے بھی انکار کر دیا ہے۔

شفافیت کا تقاضا اور حکومتی مؤقف

اس وقت عوامی سطح پر بحث کا محور صرف اور صرف شفافیت اور اس بات کی کھوج ہے کہ آخر اتنی بڑی غفلت کیسے ہوئی۔ سول سوسائٹی اور متاثرہ افراد مسلسل دباؤ بڑھا رہے ہیں کہ قوم کے زخموں پر مرہم رکھنے اور مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے سچ کا سامنے آنا انتہائی ضروری ہے۔

دوسری طرف، سیاسی قیادت نے ت حال کوئی سرکاری سطح پر تحقیقاتی کمیشن یا انکوائری بٹھانے کی مخالفت جاری رکھی ہے۔ عوامی مطالبات اور حکومتی مصلحتوں کے درمیان یہ کھینچاتانی اس خطے کی تاریخ کا ایک اور پیچیدہ اور تناؤ سے بھرپور باب بن چکی ہے۔

جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے اور 7 اکتوبر کے یہ واقعات تاریخ کا حصہ بنتے جا رہے ہیں، ذمہ داری کا یہ سوال ملکی سیاست کا سب سے بڑا اور سلگتا ہوا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اداروں کی کارکردگی اور شفافیت پر اٹھنے والے یہ سوالات آنے والے دنوں میں بھی کم ہوتے نظر نہیں آتے۔