امریکہ میں ایک نایاب فوجی سزائے موت کے معاملے پر حکومتی ایوانوں میں یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا یہ کارروائی طے شدہ منصوبے کے مطابق ہو گی یا نہیں۔ بی بی سی نیوز کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فورٹ ہڈ کے حملہ آور کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو سٹریمنگ کے منصوبے پر شک کا اظہار کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ وہ اس نشریات کو نہیں دیکھیں گے۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے لائیو نشریات کے بارے میں کہا کہ "میں نہیں جانتا کہ یہ واقعی ہونے جا رہا ہے"، اور مزید کہا کہ "اگر یہ لائیو سٹریم ہوا تو میں اسے نہیں دیکھ رہا ہوں گا۔" بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، جے ڈی وینس نے حملہ آور کے فعل کو "نائن الیون کے علاوہ امریکی سرزمین پر ہونے والا بدترین دہشت گردانہ حملہ" قرار دیا۔

پس منظر

بی بی سی نیوز کے مطابق، اس کیس میں سابق امریکی آرمی میجر نضال حسن شامل ہیں جنہوں نے 2009 میں فورٹ ہڈ میں 13 غیر مسلح امریکی فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک اور دیگر 32 افراد کو زخمی کر دیا تھا۔ فائرنگ سکواڈ کے ذریعے کی جانے والی یہ مجوزہ سزائے موت 60 سال سے زائد عرصے میں پہلی فوجی سزائے موت ہوگی، جبکہ تاریخی پس منظر کے لحاظ سے یہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد پہلی ایسی سزا ہوگی۔ بی بی سی کی اضافی رپورٹنگ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جہاں فورٹ ہڈ کا ایک زندہ بچ جانے والا شخص حملہ آور کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کی حمایت کرتا ہے، وہیں اس واقعے کو لائیو نشر کرنے کے فیصلے پر سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

عالمی انصاف کے نظام اور فوجی انتظامیہ میں ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی ناظرین کے لیے، یہ مقدمہ سزائے موت، ریاست کے زیر انتظام پھانسیوں کی شفافیت اور بے مثال قانونی و فوجی روایات سے نمٹنے کے طریقوں کے ارد گرد جاری بحث کو اجاگر کرتا ہے۔