جب زمین دو روز کے اندر دو بار لرز اٹھی تو دنیا بھر کے خودکار نظام فوری طور پر متحرک ہو گئے تاکہ اس گہرائی میں ہونے والی ہلچل کے اثرات کا تخمینہ لگایا جا سکے۔ جی ڈی اے سی ایس (GDACS) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 9 اکتوبر 2026ء کو میکوری جزیرے کے مغرب میں 5.9 شدت کا زلزلے ریکارڈ کیا گیا، جبکہ اس سے ایک دن پہلے اسی علاقے میں 5.5 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔

جی ڈی اے سی ایس کے جائزوں کے مطابق، دونوں زلزلوں کی شدت، متاثرہ آبادی اور مقامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانی اثرات کا خطرہ کم قرار دیا گیا ہے۔ یو ایس جی ایس (USGS) ایسے واقعات میں ممکنہ جانی نقصان کے تخمینے کے لیے اپنے پیجر (PAGER) نظام کا استعمال کرتا ہے، جس کے ذریعے ان زلزلوں کے حوالے سے بھی رپورٹس تیار کی جا رہی ہیں۔

پس منظر

جی ڈی اے سی ایس کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پہلا زلزلہ 8 اکتوبر 2026ء کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح سویرے 06:46 پر آیا جس کی شدت 5.5 اور گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔ اس کے بعد 9 اکتوبر 2026ء کو دوپہر 14:49 پر اسی گہرائی میں 5.9 شدت کا دوسرا زلزلہ آیا۔ ان واقعات کے لیے جی ڈی اے سی ایس نے ای سی جے آر سی (EC-JRC)، این ای آئی سی (NEIC)، اوچا (OCHA)، یو ایس جی ایس (USGS) اور انفارم (INFORM) سمیت کئی عالمی اداروں سے معلومات جمع کی ہیں۔

یہ اہم کیوں ہے

عالمی زلزلہ رپورٹ کا مشاہدہ کرنے والے قارئین کے لیے یہ جھٹکے اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ بین الاقوامی ادارے کس طرح دنیا کے دور دراز سمندری علاقوں میں مسلسل ارضیاتی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں۔ اس بات کو سمجھنا کہ عالمی ادارے خطرات اور ممکنہ انسانی اثرات کا تخمینہ کیسے لگاتے ہیں، بین الاقوامی سطح پر ہنگامی تیاریوں کے نظام کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔