جدید جنگی ٹیکنالوجی اور انسانی قیمت پر مبنی ایک ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم نے سیاست کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے، اور اسرائیلی قیادت نے اس کے گمنام کرداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ الجزیرہ اور اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس دستاویزی فلم میں شامل 24 نامعلوم فوجی مخبروں کے خلاف جامع تحقیقات کا حکم دینے کا مطالبہ کیا ہے، جن پر معلومات کی سلامتی کی خلاف ورزی اور فوجداری ہتکِ عزت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اس دستاویزی فلم میں ان گمنام ذرائع کے بیانات شامل ہیں، جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی پر مبنی نظام استعمال کیا۔ الجزیرہ کے مطابق نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے آرمی چیف، شن بیٹ کے سربراہ اور اٹارنی جنرل سے مطالبہ کیا کہ اس فلم میں حصہ لینے والوں پر مقدمہ چلایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فلم ایک غلط اور گمراہ کن بیانیہ پیش کرتی ہے جو اسرائیل کے سفارتی اور سلامتی کے مفادات کو نقصان پہنچاتا ہے۔

پس منظر

الجزیرہ اور اے ایف پی کی رپورٹس کے مطابق، فلم کا نام NAZA ایک اسرائیلی فوجی اصطلاح سے ماخوذ ہے جو فضائی حملوں میں متوقع شہری جانی نقصان کے لیے استعمال کی جاتی ہے، اور یہ عبرانی فقرے کی مختصر شکل ہے۔ اس دستاویزی فلم کو وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں اسپیشل جیوری ان انعام سے نوازا گیا تھا جہاں اسے 25 منٹ تک کھڑے ہو کر داد دی گئی۔

فلم کے جواب میں اسرائیلی فوج نے ایک بیان جاری کیا جس میں مخبروں کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کچھ دعوؤں کو بے بنیاد اور متضاد قرار دیا گیا، اور اصرار کیا گیا کہ حملوں کے اہداف کا انتخاب صرف انسانی عملہ ہی ہدایات کے مطابق کرتا ہے۔ آرمی چیف آف اسٹاف ایال ضمیر نے خفیہ فوجی معلومات کے مبینہ لیک ہونے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور شرکاء کے خلاف قانونی کارروائی پر غور کرنے کا کہا ہے۔

فلم کے ہدایت کاروں، یووال ابراہم اور راچیل شور کو غداری کے الزامات کا سامنا ہے، جبکہ نیتن یاہو اور وزیرِ ثقافت مکی زوہر نے ان کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ دوسری جانب اے ایف پی نے بتایا کہ اسرائیل کے نیشنل پبلک ڈپلومیسی ڈائریکٹوریٹ کی سربراہ تسپی ہوتوولی نے حال ہی میں ایک جوابی فلم NAZA: The Real Story بنانے والوں کو تعریف کے سرٹیفکیٹ دیے ہیں۔

اس معاملے کی اہمیت

بین الاقوامی مبصرین اور عالمی تنازعات پر نظر رکھنے والے قارئین کے لیے یہ پیش رفت ڈیجیٹل فلم سازی، اندرونی مخبری اور ریاستی سطح پر معلومات کے کنٹرول کے بڑھتے ہوئے ملاپ کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ تنازع اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ فعال جنگی علاقوں سے متعلق ثقافتی پروڈکٹس کس طرح فوری سرکاری ردعمل، قانونی دھمکیوں اور ریاستی سلامتی اور عوامی جوابدہی پر شدید بحث کو جنم دے سکتی ہیں۔