بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہفتے کے روز سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات اور سخت پابندیوں کے باعث ایک خوف کا عالم دکھائی دیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے نوجوانوں کی جانب سے متوقع احتجاج کو روکنے کے لیے تقریبا 30 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں، جبکہ شہر کو ایک قلعے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یہ احتجاج جنریشن زی موومنٹ اور کاک روچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی کال پر کیا جا رہا ہے، جن کا مطالبہ ہے کہ بھارت کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
الجزیرہ کے مطابق، حکام نے نقل و حرکت پر کڑی پابندیاں عائد کرتے ہوئے نئی دہلی آنے والی تمام ٹرینیں منسوخ کر دیں، 50 سے زائد میٹرو اسٹیشن بند کر دیے گئے اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی۔ پولیس نے تحریک کے کئی رہنماؤں کو ائیرپورٹس پر پہنچنے پر حراست میں لے لیا، جن میں سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے، اور دیگر رہنما سورو داس اور آشوتوش رنکا شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، سکیورٹی فورسز نے مختلف علاقوں میں طلباء کو بھی نشانہ بنایا، کئی طلبا کو ٹرینوں اور بسوں سے زبردستی اتارا گیا یا سینکڑوں کلومیٹر دور ان کے گھروں میں نظر بند کر دیا گیا۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق، یہ احتجاج دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں ووٹر لسٹوں کے تنازع پر کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین وسیع پیمانے پر اصلاحات اور ووٹر لسٹوں کی متنازع نظرثانی کے عمل کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس کے دوران مبینہ طور پر 13 کروڑ نام انتخابی فہرستوں سے نکال دیے گئے ہیں۔ ان وسیع پابندیوں اور گرفتاریوں کا موازنہ 1975 کی ایمرجنسی سے کیا جا رہا ہے، جس کے دوران بنیادی شہری آزادیوں کو معطل کر دیا گیا تھا۔ اس تاریخی مماثلت کا ذکر زیر حراست بانی ابھیجیت دیپکے نے ایکس پر اپنے ایک بیان میں کیا، جسے الجزیرہ نے نقل کیا ہے۔
اس کی اہمیت کیا ہے
پاکستان اور خطے دیگر مبصرین کے لیے انتخابی امور، عوامی احتجاج پر پابندیوں اور ریاست کی طرف سے مواصلات پر عائد کردہ قدغنیں ان پیچیدہ چیلنجوں کو ظاہر کرتی ہیں جن کا سامنا جنوبی ایشیا کے بڑے ممالک میں جمہوری اداروں اور شہری آزادیوں کو ہے۔
آگے کیا ہوگا
الجزیرہ کے مطابق، حکومتی کریک ڈاؤن، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور ٹرینوں کی بندش کے باوجود مظاہرین نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ سڑکوں پر واپس آنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

