ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے ایک اور میزائل حملے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق جبکہ 11 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ الجزیرہ، ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) اور رائیٹرز کی رپورٹس کے مطابق یہ تازہ ترین واقعہ ایئرپورٹ کے ٹرمینلز 3 اور 4 پر پیش آیا، جس نے خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ایک بار پھر گہرے دکھ کا ماحول پیدا کر فر دیا ہے۔

جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (GACA) کے حوالے سے خبر رساں اداروں نے بتایا ہے کہ جاں بحق ہونے والا شخص پاکستانی شہری تھا، جبکہ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ٹیکسی وے پر موجود ایک طیارے کے مسافر نے رائیٹرز کو بتایا کہ ایک میزائل کھڑے طیاروں کے قریب ٹارمک پر گرا، جس سے آگ لگ گئی اور مسافروں کو فوری طور پر طیارے سے نیچے اتارنا پڑا۔

خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق سعودی عرب میں بھارتی سفارت خانے نے بتایا کہ اتوار کے روز ان کا ایک شہری ہفتے کے روز ہونے والے حملے میں زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گیا، جس سے اس حملے میں مرنے والوں کی تعداد 13 ہو گئی ہے۔ جی اے سی اے (GACA) نے بتایا کہ گزشتہ پانچ دنوں کے دوران ریاض ایئرپورٹ کو چار بار نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے قبل جمعرات کے روز حوثی حملوں میں کم از کم تین سعودی شہری، بشمول ایک پائلٹ، جاں بحق ہوئے تھے۔

پس منظر

الجزیرہ، اے پی اور رائیٹرز کے مطابق اتوار کا یہ حملہ ہفتے کے روز ہونے والے حوثی میزائل حملے کے بعد ہوا ہے، جس میں یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی اتحاد کے مطابق 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ ہفتے کے روز ہونے والے اس حملے کے بعد سے ایئرپورٹ بند ہے۔ فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے یہ ملک کا سب سے بڑا اور ہلاکت خیز حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حوثیوں نے پچھلے حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی، اور جی اے سی اے نے بتایا کہ تازہ ترین واقعے کے بعد نقصان کا تخمینہ لگانے اور حفاظتی معائنے کا کام جاری ہے۔

اس حملے کی اہمیت کیوں ہے؟

ایک بڑے علاقائی مرکز میں جاری اس کشیدگی کے براہ راست اثرات عالمی تیل کی سپلائی، قیمتوں اور باب المندب کے راستے ہونے والے تجارتی جہاز رانی پر پڑ رہے ہیں۔ باب المندب آبنائے ہرمز کا ایک اہم متبادل آبی راستہ ہے۔ الجزیرہ، اے پی اور رائیٹرز نے رپورٹ کیا کہ ایئرپورٹ پر ہونے والے ان حملوں نے یمن کی جنگ کو مزید تیز کر دیا ہے اور امریکی فوج کو بھی اس میں گھسیٹنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اس جنگ میں شامل ہونے یا نہ ہونے پر غور کر رہے ہیں۔ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ امریکی مداخلت کے نتیجے میں حوثی آبنائے میں جہاز رانی روک سکتے ہیں، جس سے خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل مزید محدود ہو گی اور بین الاقوامی مارکیٹوں اور بیرون ملک کام کرنے والے ورکرز پر شدید اثرات مرتب ہوں گے۔

آگے کیا ہوگا؟

حوالہ دی گئی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بات چیت کرنے کے ارادے کا اظہار کیا ہے، جو حوثیوں کے خلاف مدد کے خواہاں ہیں، تاہم اتوار کے روز اس حوالے سے فوری طور پر کسی پیش رفت کے آثار دکھائی نہیں دیے۔ دوسری جانب جی اے سی اے (GACA) بند ایئرپورٹ پر حفاظتی معائنے اور نقصانات کا جائزہ لینے کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔