سات دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ایک ہی چھت تلے رہنے والی سپین کی ستاسی سالہ بزرگ خاتون ماری کارمین اباسکل اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔ بی بی سی نیوز کے مطابق، ایک یونین نے ان کے انتقال کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد ملک میں ہاؤسنگ کے مسائل اور بزرگ کرایہ داروں کے حقوق پر بحث ایک بار پھر تازہ ہو گئی ہے۔
ملک کو ہلا دینے والا وہ دن
بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ستمبر کے مہینے میں ماری کارمین اباسکل کو ان کے اپارٹمنٹ سے اسٹریچر پر ڈال کر زبردستی نکالا گیا تھا۔ یہ گھر ستر سال سے زیادہ عرصے سے ان کا مسکن تھا۔ اس ڈرامائی اور تکلیف دہ منظر نے پورے ملک کی توجہ اپنی جانب مبذول کی اور ہاؤسنگ پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
یونین کی تصدیق اور عوامی ردعمل
جس یونین نے ان کے معاملے کی پیروی کی تھی، اسی نے اب ان کے انتقال کی اطلاع دی ہے۔ بی بی سی نیوز کے مطابق، اس خبر نے ان تمام شہریوں اور حقوقِ رہائش کے علمبرداروں کو شدید صدمے سے دوچار کیا ہے جو ستمبر کے ان واقعات کے بعد اس بزرگ خاتون کی حمایت میں باہر نکلے تھے۔
رہائشی مسائل پر جاری بحث
ماری کارمین اباسکل کی اس طرح رخصتی نے سپین میں کرایہ داروں کے حقوق اور رہائشی تحفظ کے حوالے سے جاری بحث کو مزید گرما دیا ہے۔ اگرچہ ان کی بے دخلی پر ہونے والے احتجاج نے معاشرتی خدشات کو کھل کر سامنے لایا تھا، لیکن اب ان کی موت نے اس المناک باب کا ایک انتہائی اداس انجام پر اختتام کیا ہے جس نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔
