محل کا فریب

ایک پرانے شہر میں جہاں کرگہوں کا شور برسات کی رم جھم کی طرح گونجتا تھا، ایک ماہر جلاہا رہتا تھا جو دھاگوں سے فن پارے بنتا تھا۔ جب دوسرے کاریگر شاہی درباریوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی دوڑ میں لگے تھے، جلاہا اپنے لکڑی کے کرگھے کی آواز اور نیل کے رنگوں میں سکون پاتا تھا۔ مگر انسان کی فطرت جلد مچل جاتی ہے، اور جب شاہی محلات کی دولت کے چرچے اس تک پہنچے تو اس کے دل میں بھی لالچ نے گھر کر لیا۔ سونے کے سکوں اور ریشمی لباسوں کی کہانیوں نے اس کے پرسکون کارخانے کے شور کو دبا دیا۔

دولت کی چمک دمک سے متاثر ہو کر، وہ اپنے بہترین کپڑے لے کر محل کی طرف روانہ ہو گیا۔ اس نے سوچا کہ اس کا ہنر بازار کی دھول سے نکل کر شاہی ایوانوں میں پہنچنا چاہئے۔ یہ طویل سفر تھکا دینے والا تھا، لیکن عظمت کا خواب اسے آگے بڑھاتا رہا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ ہر دروازہ کھلنے کے بعد اپنی قیمت مانگتا ہے۔

درباری حقیقت

جب وہ شاہی دربار پہنچا تو اس پر آشکار ہوا کہ وہاں محنت کی کوئی قدر نہیں ہے۔ درباری سازشوں میں الجھے ہوئے تھے اور اس کے ہاتھ کے بنے خوبصورت کپڑوں کو عام مال سمجھ کر رد کر دیا گیا۔ بادشاہ بھی اپنے امور میں اتنا الجھا تھا کہ اس نے جلاہے کے فن پر ایک سرسری نگاہ ڈالی۔

مایوسی کے عالم میں اس نے ہفتوں سرد راہداریوں میں انتظار کیا۔ اسے سمجھ آ گئی کہ جس دولت کے پیچھے وہ بھاگ رہا تھا، اس کے بدلے اسے اپنی آزادی کی قیمت چکانی پڑی ہے۔ محل کوئی قدردانوں کی جگہ نہیں بلکہ ایک ایسا سنہری پنجارہ تھا جہاں ہنر کی کوئی عزت نہیں تھی۔

کرگھے کی طرف واپسی

اس تلخ تجربے کے بعد جلاہے نے اپنے کپڑے سمیٹے اور شام ہونے سے پہلے محل سے باہر آ گیا۔ جیسے جیسے وہ شاہی عمارت سے دور ہوتا گیا، اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا گیا۔ بازار کی جانی پہچانی آوازیں اسے اپنی آغوش میں لیتی محسوس ہوئیں اور رنگوں کی مہک کسی شاہی عطر سے زیادہ پیاری لگی۔

جب وہ اپنے پرانے لکڑی کے کرگھے پر بیٹھا تو ایسا لگا جیسے کسی پرانے دوست سے ملاقات ہو گئی ہو۔ اس کے کھردرے ہاتھوں میں دھاگے پھر سے رواں ہو گئے، اور اسے معلوم ہو گیا کہ اصل عزت بادشاہوں کی خوشنودی میں نہیں بلکہ اپنے ہنر میں ہے۔

حاصلِ مطالعہ

یہ روایت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ شہرت اور دولت کی اندھی دوڑ میں اپنی اصل پہچان کو چھوڑ دینا صرف ندامت کا باعث بنتا ہے۔ حقیقی سکون اپنے ہنر میں مہارت حاصل کرنے اور اپنے ہاتھوں کی کمائی پر فخر کرنے میں ہے۔