وائٹ ہاؤس نے یوکرین کی قیادت میں تبدیلی کی خواہش کا اظہار کیا ہے، اور الجزیرہ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یوکرین کو ایک نیا صدر ملے۔ ٹرمپ کے اس مؤقف کی وجہ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کی جانب سے روسی آئل ریفائنریز پر کیے جانے والے حملے ہیں، جن سے عالمی سطح پر ڈیزل کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔
اگرچہ زیلنسکی کی پانچ سالہ صدارتی مدت 2024 میں ختم ہو چکی ہے، لیکن یوکرین کا آئین اور نافذ العمل مارشل لا انہیں جنگی حالات کی وجہ سے توسیع فراہم کرتے ہیں، اور بہت سے یوکرینی شہری جنگ کے خاتمے سے پہلے انتخابات کے انعقاد سے ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ ٹرمپ کے بیانات کے جواب میں زیلنسکی نے تجویز پیش کی ہے کہ اگر روسی صدر ولادیمیر پوتن 60 دن کی جنگ بندی کی ضمانت دیں تو وہ انتخابات کرانے کے لیے تیار ہیں۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق، کیف کے تجزیہ کار ایگار تِشکویچ کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر انتخابات کرائے گئے تو سابق فوجی کمانڈر زیلنسکی کے سب سے بڑے حریف ثابت ہوں گے۔ اس کے برعکس، پرانے سیاسی نام جیسے کہ سابق صدر پیترو پوروشنکو (جو 2019 کا صدارتی انتخاب ہار گئے تھے) اور سابق وزیراعظم یولیا تیموشینکو (جو بدعنوانی کی تحقیقات کا سامنا کر رہی ہیں) اس دوڑ میں کوئی خاص موقع نہیں رکھتے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یوکرین کے سابق اعلیٰ جنرل اور برطانیہ میں موجودہ سفیر ویلری زالوزنی ممکنہ حریفوں کی فہرست میں سرفہرست ہیں۔ کیف کے تھنک ٹینک 'پینٹا' کے سربراہ ولودیمیر فیسینکو نے الجزیرہ کو بتایا کہ زالوزنی سب سے مضبوط حریف ہیں جو انتخابات میں زیلنسکی کو شکست دے سکتے ہیں۔ کیف کے 'ریٹنگ گروپ' کے 8 اکتوبر کے ایک عوامی جائزے کے مطابق، تقریباً دو تہائی یعنی 64 فیصد یوکرینی شہری زالوزنی پر اعتماد کرتے ہیں جبکہ صرف 25 فیصد ان پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ زالوزنی نے 2022 کے روسی حملے کے بعد جوابی کارروائیوں کی قیادت کی تھی اور روسی قبضے کے تحت 40 فیصد علاقہ واپس حاصل کیا تھا، تاہم 2023 میں انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ الجزیرہ کے مطابق دیگر ممکنہ ناموں میں انٹیلی جنس چیف کریلو بودانوف اور اصلاحات پسند میخائیلو فیڈروف بھی شامل ہیں۔
اس کی اہمیت
بین الاقوامی مبصرین اور عالمی امور پر نظر رکھنے والوں کے نزدیک طویل جنگ میں پھنسے ہوئے کسی ملک کے اندر قیادت کے بارے میں بحث میں تبدیلی بڑی سفارتی اور معاشی اہمیت رکھتی ہے۔ اس سے خارجہ پالیسی کے مؤقف، بین الاقوامی سپلائی چینز اور جنگی سفارت کاری کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

