برطانیہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تسلیم کیا ہے کہ اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر سے جڑے مقامات کی تلاشی کے لیے حاصل کیے گئے وارنٹ غیر قانونی طور پر جاری کیے گئے تھے اور انہیں کالعدم قرار دیا جانا چاہیے، البتہ اس کے باوجود پولیس کی تفتیش کا عمل جاری ہے۔
الجزیرہ، اے ایف پی، اے پی اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق، ہائی کورٹ کے ججس جسٹس نکولس ہل یارڈ نے جمعرات کو سماعت کے دوران کہا کہ تھامس ویلی پولیس نے سابق شہزادے کی جائیدادوں کے تلاشی وارنٹ کی درخواست دیتے وقت ایک اہم غلطی کی تھی، جسے پولیس فورس نے بعد میں تسلیم بھی کر لیا۔
جسٹس نکولس ہل یارڈ نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ وارنٹ کا کالعدم قرار پانا اس بات کا اشارہ نہیں کہ تحقیقات کا خاتمہ ہو گیا ہے یا پوری تفتیش ہی غیر قانونی تھی۔ تھامس ویلی پولیس کے ترجمان نے خبر رساں اداروں کو تصدیق کی کہ مخصوص قانون کے تحت وارنٹ کے اجرا کا ابتدائی عدالتی فیصلہ غلط تھا اور اسے قانونی طور پر کالعدم ہونا چاہیے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تلاشی کے دوران ضبط کیے جانے والے سامان کو قانونی طور پر اپنے پاس رکھنے یا نہ رکھنے کے معاملے پر قانونی کارروائی جاری ہے۔ اے پی اور رائٹرز کے مطابق سابق شہزادے کی طرف سے پولیس کی جانب سے سامان رکھنے کی درخواست کی مخالفت کی جا رہی ہے۔
پس منظر
الجزیرہ، اے ایف پی، اے پی اور رائٹرز کے مطابق، اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم کے چھوٹے بھائی ہیں جنہیں فروری میں ان کی سالگرہ کے دن برطانوی میڈیا اور رپورٹس کے مطابق امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ روابط سے متعلق عہدے کے غلط استعمال کے شبے میں حراست میں لیا گیا تھا۔ اسی روز رہائی کے باوجود وہ تاحال تفتیش کے دائرے میں ہیں۔ خبر رساں اداروں نے بتایا کہ ایپسٹین، جو اگست 2019 میں نیویارک کی جیل میں انتقال کر گئے تھے، کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کو گزشتہ سال ان کے شاہی القابات سے محروم کر دیا گیا تھا۔ پولیس نے اس سے قبل لندن کے مغرب میں ونڈسر اور مشرقی انگلینڈ میں سینڈرنگھم میں ان کے سابقہ گھر کی تلاشی لی تھی، جس کے بعد وارنٹ پر قانونی چیلنج سامنے آیا۔
یہ معاملہ کیوں اہم ہے؟
بین الاقوامی مبصرین اور عالمی قانونی عمل کا جائزہ لینے والے قارئین کے لیے یہ کیس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح اہم شخصیات کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طریقہ کار پر عدالتی نگرانی اور کڑی جانچ پڑتال لاگو ہوتی ہے، جیسا کہ رپورٹنگ کرنے والے اداروں نے دستاویزی شکل دی ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
الجزیرہ، اے ایف پی، اے پی اور رائٹرز کے مطابق، پولیس ضبط شدہ مواد کو قانونی طور پر اپنے پاس رکھ سکتی ہے یا نہیں، اس بارے میں حتمی فیصلہ آئندہ سال مزید قانونی کارروائی کے بعد ہی سامنے آ سکے گا۔

