سوڈان میں جاری تباہ کن جنگ کے دوران سلامتی کونسل میں تقسیم صاف دکھائی دی ہے، جہاں طویل مدتی اور وسیع پابندیوں کے بجائے ایک عارضی اور محدود اقدام پر اتفاق کیا گیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 15 رکنی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر قرارداد نمبر 2830 منظور کی جس کے تحت دارفور پر عائد اسلحے کی پابندی کو 11 دسمبر تک بڑھا دیا گیا ہے، تاکہ مستقل ارکان روس اور چین کی طرف سے پورے ملک میں پابندیاں پھیلانے کی مخالفت کے بعد مذاکرات کے لیے مزید وقت مل سکے۔
الجزیرہ کے مطابق اقوام متحدہ نے اس متن کو ایک مختصر مدتی تکنیکی توسیع قرار دیا ہے جو اس سے پہلے ایک ماہ کی توسیع کے بعد سامنے آئی ہے۔ امریکی سفیر جیف بارٹوس نے گزشتہ ماہ کونسل کے اجلاس میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ موجودہ پابندیوں کا نظام 20 سال سے زیادہ پرانا ہے اور موجودہ تنازع کی زمینی حقائق کے لیے ناکافی ہے، اس لیے انہوں نے پورے سوڈان میں ان کی توسیع پر زور دیا تھا۔ اس کے برعکس روس کی نائب مندوب برائے اقوام متحدہ آنا ایوستیگنیوا نے واضح کیا کہ ماسکو پابندیوں کے دائرہ کار کو کسی صورت وسیع نہیں ہونے دے گا، جبکہ سوڈان کے مندوب الحارث محمد نے دلیل دی کہ مکمل پابندی اقوام متحدہ کے چارٹر میں حقِ دفاع سے متعلق دفعات کی خلاف ورزی ہوگی۔
پس منظر
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ پابندیاں سب سے پہلے 2005 میں قرارداد نمبر 1591 کے تحت نافذ کی گئی تھیں، جن میں دارفور میں مسلح دھڑوں پر اسلحے کی پابندی کے علاوہ سفری پابندیاں، اثاثے منجمد کرنا اور ماہرین کا ایک نگرانی پینل شامل تھا جس کی مدت 11 جنوری 2027 تک بڑھا دی گئی ہے۔ سوڈانی فوج اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان جاری جنگ کا آغاز اپریل 2023 میں ہوا تھا، جس کے نتیجے میں کم از کم 59000 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ امدادی تنظیموں کا انتباہ ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس تنازع کے باعث تقریباً 13 ملین افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور ملک کے بعض حصوں میں قحط کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے، جبکہ فوج وسطی اور مشرقی علاقوں پر قابض ہے اور آر ایس ایف کے پاس مغرب میں دارفور اور جنوب کے کچھ حصے ہیں۔ الجزیرہ نے بتایا کہ رقبے کے لحاظ سے اسپین کے برابر دارفور کے علاقے میں اس جنگ کے دوران بدترین تشدد دیکھا گیا ہے، جس میں پناہ گزین کیمپوں پر حملے اور ہزاروں اموات کا سبب بننے والے سانحات شامل ہیں۔
یہ اہم کیوں ہے
بین الاقوامی مبصرین اور عالمی سفارت کاری کا جائزہ لینے والے عام قارئین کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یہ ڈیڈ لاک اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بڑے انسانی بحرانوں کے دوران بین الاقوامی اتفاق رائے حاصل کرنا کتنا پیچیدہ ہوتا ہے۔ نیویارک میں اسلحے کی فراہمی اور سفارتی توسیع کے حوالے سے کیے جانے والے فیصلے طویل تنازعات کے رخ اور بے گھر آبادی کو امداد کی فراہمی پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں، اور یہ بتاتے ہیں کہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے درمیان جیو پولیٹیکل تقسیم معاصر جنگوں پر عالمی ردعمل کو کیسے شکل دیتی ہے۔
