امریکی انتظامیہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے خلاف ایک سخت مالی اور انتظامی مہم کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت اس عالمی ادارے کے وسائل اور کام کرنے کی صلاحیت کو محدود کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بی بی سی نیوز کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بتایا کہ ان اقدامات کا مقصد امریکی خودمختاری کا دفاع کرنا اور امریکی شہریوں کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کو روکنا ہے۔ ان پابندیوں میں امریکی اداروں اور کمپنیوں کے لیے آئی سی سی کے ساتھ ہر قسم کے لین دین پر پابندی شامل ہے۔

یہ اعلان اس خبر کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا جب آئی سی سی کی سابق جج نوی پلے کو 2026 کا نوبل امن انعام دینے کا اعلان کیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نارویجن نوبل کمیٹی کے اس فیصلے پر سخت تنقید کی، کیونکہ وہ خود اس اعزاز کو حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے نوی پلے کو اس پینل میں شامل ہونے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا جس نے 7 اکتوبر کے تنازع کے دوران اسرائیل اور حماس دونوں پر جنگی جرائم کا الزام عائد کیا تھا۔

بی بی سی نیوز کے مطابق، ان نئی پابندیوں کے تحت امریکی کمپنیاں عدالت کو بینکنگ اور سافٹ ویئر جیسی اہم اشیاء اور خدمات فراہم نہیں کر سکیں گی۔ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ واشنگٹن نے یہ اقدامات اس امید پر روکے رکھے تھے کہ عدالت اور اس کے رکن ممالک امریکی تحفظات کو دور کریں گے، اور انہوں نے آئی سی سی کے دستخط کنندہ امریکی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ اس ادارے کو لگام دینے میں مدد کریں۔

دوسری جانب، بی بی سی نیوز کے توسط سے جاری کردہ بیان میں آئی سی سی نے ان پابندیوں کو قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیادوں پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد اس کے کام میں رکاوٹ ڈالنا اور اس کے ساتھ تعاون کرنے والوں کو خوفزدہ کرنا ہے، تاہم عدالت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنے عزم سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

پس منظر

بی بی سی نیوز کے مطابق، امریکہ نے کبھی بھی روم اسٹیٹیوٹ کی توثیق نہیں کی جس کے تحت آئی سی سی کا قیام عمل میں آیا تھا، اور امریکہ کا موقف ہے کہ اس عدالت کو امریکی شہریوں پر کوئی دائرہ اختیار حاصل نہیں۔ یہ ادارہ اس سے قبل افغانستان میں امریکی افواج کی کارروائیوں کی تحقیقات بھی کر چکا ہے، جنہیں بعد میں پس منظر میں ڈال دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ، اسرائیلی عہدیداروں بالخصوص وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے پر بھی عدالت کو شدید امریکی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

یہ معاملہ کیوں اہم ہے

عالمی قانونی ڈھانچوں کا جائزہ لینے والے بین الاقوامی مبصرین کے نزدیک یہ پیش رفت طاقتور خودمختار ریاستوں اور عالمی کثیر جہتی اداروں کے درمیان جاری کشیدگی کو ظاہر کرتی ہے جو ان کے دائرہ اختیار سے باہر کام کرتی ہیں۔ امریکی خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی ٹریبونلز کے درمیان یہ ٹکراؤ عالمی انصاف کے نظام کو درپیش پیچیدہ سفارتی چیلنجز کو بے نقاب کرتا ہے۔

آگے کیا ہوگا

بی بی سی نیوز کے مطابق، مارکو روبیو نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یا تو آئی سی سی اپنی دھمکیاں بند کرے یا ہم آئی سی سی کو ختم کر دیں گے۔ تاہم، انہوں نے اس بات کے لیے بھی گنجائش چھوٹی ہے کہ اگر عدالت اور اس کے رکن ممالک امریکی خدشات کو دور کرتے ہیں تو دیگر ممالک کے ساتھ کسی ممکنہ حل پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔