امریکی وزارت خزانہ کی ویب سائٹ اور الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ایک طویل قانونی جنگ کے بعد تھئین ون حتت (Theint Win Htet) کو امریکی پابندیوں سے نجات مل گئی ہے۔ الجزیرہ اور رائٹرز کی اطلاعات کے مطابق، یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے میانمار کی حکومت کے ساتھ بات چیت کے آغاز کی خبروں کے چند روز بعد سامنے آیا ہے، جو 2021 میں منتخب حکومت کے خلاف فوجی قبضے کے بعد سے چلی آ رہی سخت امریکی پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی کی غمازی کرتا ہے۔
الجزیرہ اور روئٹرز نے بتایا کہ وزارت خزانہ نے جولائی میں دائر کی گئی دوسری شکایت کے بعد جمعہ کے روز تھئین ون حتت کا نام بلیک لسٹ سے خارج کر دیا۔ ان کے واشنگٹن میں مقیم قانون دان ایرچ فیراری (Erich Ferrari) نے اسی روز عدالت میں مقدمہ واپس لینے کی درخواست جمع کروائی۔ ان پابندیوں کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، جن میں امریکی کریڈٹ کارڈز کی بندش، غیر ملکی بینک اکاؤنٹس پر قدغن اور نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی میں ماسٹرز کی ڈگری ادھوری چھوڑ کر تھائی لینڈ منتقل ہونا شامل تھا۔
دوسری جانب، الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم 'جسٹس فار میانمار' نے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ میانمار کی فوج تاحال عام شہریوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور اس طرح کے فیصلوں سے فوجی حکمرانوں کو مالی مدد فراہم کرنے والے افراد کو ریلیف مل رہا ہے۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق، سابق صدر جو بائیڈن کے دورِ حکومت میں جنوری 2024 کے دوران امریکی وزارت خزانہ نے 'شوی بیاں پھیو گروپ آف کمپنیز' (Shwe Byain Phyu Group of Companies) کے خلاف کارروائی کی تھی۔ اس ادارے کی بنیاد تھئین ون حتت کے والد تھئین ون زاو اور ان کے اہل خانہ نے رکھی تھی۔ وزارت خزانہ کا مؤقف تھا کہ یہ کمپنی فوج کو ایندھن فراہم کرتی ہے اور اس کے فوجی قیادت کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والے کم از کم 20 ادارے ہیں۔ تھئین ون حتت کی جانب سے بائیڈن انتظامیہ کے خلاف دائر پہلا مقدمہ گزشتہ سال مسترد کر دیا گیا تھا، تاہم ان کی والدہ کا نام گزشتہ سال ہی پابندیوں کی فہرست سے ہٹا دیا گیا تھا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق میانمار میں 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد شروع ہونے والی خانہ جنگی کے نتیجے میں تقریباً 1 لاکھ اموات ہو چکی ہیں اور 35 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ اس دوران بائیڈن انتظامیہ نے فوجی افسران اور ان سے وابستہ کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ واشنگٹن نے گزشتہ سال جولائی میں میانمار کے کئی دیگر شہریوں اور ایک متعلقہ کمپنی سے بھی پابندیاں ہٹا دی تھیں جن پر فوج کی معاونت کا الزام تھا۔
اس فیصلے کی اہمیت
بین الاقوامی امور کے نگرانوں اور خارجہ پالیسی پر نظر رکھنے والوں کے نزدیک یہ پیش رفت بڑی طاقتوں کی اقتصادی اور سفارتی پابندیوں کی متغیر نوعیت کو ظاہر کرتی ہے۔ امریکی پالیسی میں یہ تبدیلیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ قانونی چارہ جوئی اور حکومتوں کے بدلتے ہوئے رویے کس طرح طویل عرصے سے عائد بین الاقوامی پابندیوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ
جو بائیڈن