جب ہری بھنگا آموں کا ایک ٹوکرا بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی میز پر پہنچا تو اس کے پیچھے دونوں ممالک کے درمیان امن کی ایک بڑی امید وابستہ تھی۔ لیکن الجزیرہ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ بنگلہ دیشی نگران حکومت کی جانب سے یہ میٹھا تحفہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ نرم سفارت کاری اب اپنی آخری حدوں تک پہنچ چکی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، جولائی 2024 میں عوامی احتجاج کے نتیجے میں شیخ حسینہ کے 15 سالہ اقتدار کے خاتمے کے بعد سے، ڈھاکا نے دوطرفہ تعلقات کو مکمل تعطل سے بچانے کے لیے ایک نرم سفارتی راستہ اپنایا۔ اس حکمت عملی میں ہِلسا مچھلی، جامدانی کپڑے، تنگیال ساڑیاں اور خاص آم شامل تھے، جس کی بدولت عوامی اور سفارتی رابطے کے دروازے کھلے رہے۔

تاہم، الجزیرہ کا کہنا ہے کہ آموں کا ایک ٹوکرا اگرچہ کولکتہ میں وقتی گرم جوشی پیدا کر سکتا ہے اور پرانی یادیں تازہ کر سکتا ہے، لیکن یہ شیخ حسینہ کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتا، نہ ہی دریائی پانیوں کے تنازعات کو سلجھا سکتا ہے، اور نہ ہی سلامتی کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کو دور کر سکتا ہے۔

پس منظر

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، جولائی 2024 کے سیاسی انقلاب کے بعد بنگلہ دیش نے بھارت کے ساتھ کسی بھی شدید محاذ آرائی سے گریز کرنے کی کوشش کی۔ نئی دہلی میں بنگلہ دیشی ہائی کمیشن نے کشیدگی کے باوجود بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا۔ جولائی 2025 میں نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں قائم نگران حکومت نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور دیگر اعلیٰ حکام کو 1 ہزار کلو گرام ہری بھنگا آم ارسال کیے، جس کا مقصد شیخ حسینہ کے بھارتی سرزمین پر قیام کی تلخی کے باوجود معمول کے تعلقات کا اشارہ دینا تھا۔

اس کی اہمیت

خطے کے عام مشاہدین کے لیے، ان جڑے ہوئے ہمسایہ ممالک کے درمیان تناؤ ثقافتی قربت اور سخت زمینی حقائق کے درمیان دائمی کشمکش کو ظاہر کرتا ہے۔ جیسا کہ الجزیرہ نوٹ کرتا ہے کہ اگرچہ نرم طاقت بات چیت کا آغاز کر سکتی ہے اور مکمل دشمنی کو روک سکتی ہے، لیکن یہ ان مشکل سیاسی مذاکرات کا متبادل نہیں بن سکتی جو تعلقات کی بحالی کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔