دنیا بھر میں زمین اور سمندر کی بحالی کے لیے ایک ایسی بڑی مہم کا آغاز ہو چکا ہے جو رقبے کے لحاظ سے دنیا کے نویں بڑے ملک کے برابر بتائی جاتی ہے۔ پازیٹو نیوز نے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کے حوالے سے بتایا ہے کہ 149 ممالک میں تقریباً 252 ملین ہیکٹر پر پھیلے خشکی، سمندر اور آبی ذخائر کے خطتے اس وقت بحالی کے عمل سے گزر رہے ہیں، جس سے لاکھوں نئے سبز روزگار بھی پیدا ہوئے ہیں۔

اس ماحولیاتی پیش رفت کے ساتھ ساتھ طب اور صحت کے شعبے میں بھی ایک شاندار کامیابی سامنے آئی ہے۔ پازیٹو نیوز کی رپورٹ کے مطابق بارباڈوس نے ماں سے بچے میں ایچ آئی وی کی منتقلی کو مکمل طور پر روک دیا ہے اور وہ عالمی ادارہ صحت (WHO) کی جانب سے اس اعزاز کو حاصل کرنے والے چند منتخب ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔

اہم حقائق

  • پازیٹو نیوز کے مطابق یو این ای پی (UNEP) کے زیرِ اثر 149 ممالک میں 252 ملین ہیکٹر پر ماحولیاتی بحالی کا کام جاری ہے۔
  • یو این ای پی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن کا کہنا ہے کہ دنیا تاریخ کی سب سے بڑی ماحولیاتی تحریکوں میں سے ایک کو دیکھ رہی ہے۔
  • پازیٹو نیوز کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق زمینی ماحولیاتی نظام 2030 کے اہداف پورے کرنے کی راہ پر ہیں، جبکہ ساحلی علاقے 23 فیصد اور آبی ذخائر 5 فیصد تک اس منزل کے قریب ہیں۔
  • پازیٹو نیوز نے بتایا کہ گرین کلائمیٹ فنڈ نے ترقی پذیر ممالک کے لیے ماحول دشمن اثرات سے نمٹنے اور بہتری لانے کی خاطر 3.3 ارب ڈالر کی ریکارڈ رقم مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔
  • پازیٹو نیوز کے مطابق بارباڈوس نے یہ صحت مند سنگِ میل مفت اور عام صحت کی سہولیات کے ذریعے حاصل کیا، جہاں 98 فیصد حاملہ خواتین کے ٹیسٹ کیے گئے اور متاثرہ خواتین کو بروقت علاج فراہم کیا گیا۔ اس بات کی تصدیق عالمی ادارہ صحت (WHO) کے 2022 سے 2024 کے جائزے میں کی گئی۔
  • امریکہ کے لیے عالمی ادارہ صحت کے علاقائی ڈائریکٹر ڈاکٹر جارباس باربوسا نے اس کامیابی کو بارباڈوس اور کیریبین کے لیے ایک فخر کا لمحہ قرار دیا۔

پس منظر

پازیٹو نیوز کی رپورٹ کے مطابق سن 2021 میں دنیا بھر کی حکومتوں نے عہد کیا تھا کہ دہائی کے اختتام تک ایک ارب ہیکٹر رقبے کو بحال کیا جائے گا اور 30 فیصد تباہ حال خطوں کو دوبارہ بہتر بنایا جائے گا۔ تاہم فنڈز کی کمی اس راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے، کیونکہ 2030 تک سالانہ سرمایہ کاری کو 64 ارب ڈالر سے بڑھا کر 296 ارب ڈالر تک لے جانے کی ضرورت ہے۔ مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے گرین کلائمیٹ فنڈ نے ترقی پذیر ممالک کے لیے امداد میں اضافہ کیا۔ دوسری جانب بارباڈوس کی طبی کامیابی قومی حکومت، ڈبلیو ایچ او اور عالمی شراکت داروں کے باہمی تعاون کا نتیجہ ہے، جس نے حاملہ خواتین کے لیے طبی سہولیات کو آسان بنایا۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

عام قاری کے لیے یہ عالمی تبدیلیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ باقاعدہ بین الاقوامی تعاون ماحولیاتی تحفظ اور عوامی صحت پر کتنے گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ عوام تک علاج کی رسائی اور ہدف پر مبنی طبی اقدامات کس طرح بیماریوں کے پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں، یہ دنیا بھر کے لیے ایک اہم مثال ہے۔ اسی طرح بڑے پیمانے پر ماحولیاتی احیاء کے منصوبے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ قدرتی ماحول کا تحفظ اور فنڈز کی فراہمی کتنی ضروری ہے۔

آگے کیا ہوگا

پازیٹو نیوز نے بتایا ہے کہ ماحولیاتی تنظیموں جیسے کہ سیرا کلب اور ایورگرین ایکشن نے نو منتخب سیاسی رہنماؤں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صاف توانائی کے فروغ، فوسل ایندھن کی سبسڈی میں کمی اور ماحولیاتی استحکام کے اقدامات کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھیں۔