جب کوئی شخص کسی ادارے میں ناانصافی یا غلط رویے کے خلاف آواز بلند کرنے کی ہمت کرتا ہے، تو ایسے میں ملزم کو عالمی سطح پر کوچنگ کرتے دیکھنا اس کے لیے دل شکنی کا باعث بنتا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اسپورٹ کی رپورٹ کے مطابق، ایک جمناسٹک کوچ، جنہیں بچوں کو جذباتی نقصان پہنچانے اور دباؤ میں رکھنے کے الزامات ثابت ہونے پر دو سال کی باضابطہ وارننگ دی گئی تھی، یونان میں منعقد ہونے والے ایک بین الاقوامی نوجوان کھلاڑیوں کے مقابلے میں دستے کی رہنمائی کر رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شیفیلڈ کے قریب واقع ڈرون فیلڈ جمناسٹکس اکیڈمی کی سربراہ کلیر ہیگ برطانوی جمناسٹکس کے تحت ہائزن کپ میں شرکت کے لیے روانہ ہوئیں۔ ذرائع سے حاصل کردہ دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کوچ اور اکیڈمی کے خلاف شکایات میں خوف پر مبنی تربیت، سخت اور سزاؤں پر مبنی پالیسیاں اور کم عمر بچوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات جیسے سنگین امور شامل تھے۔
بی بی سی اسپورٹ نے بتایا کہ برطانوی جمناسٹکس نے اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد کئی الزامات درست پائے، جس کے نتیجے میں کوچ اور کلب کو دو سال کی وارننگ جاری کی گئی اور لازم قرار دیا گیا کہ وہ اپنی نگرانی اور تربیتی طریقوں میں بہتری لائیں۔ تاہم، شکایت کرنے والے افراد کا کہنا تھا کہ اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ کون کون سے مخصوص الزامات باضابطہ طور پر درست ثابت ہوئے تھے۔
اس معاملے پر جب کوچ سے موقف لینا چاہا تو انہوں نے میڈیا کے سوالات پر کوئی براہ راست جواب نہیں دیا، البتہ ڈرون فیلڈ جمناسٹکس اکیڈمی نے بی بی سی اسپورٹ کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ انہوں نے تحقیقاتی عمل کے دوران مکمل تعاون کیا۔ کلب کے بیان میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ جائزے کے دوران کوئی ایسا سنگین معاملہ سامنے نہیں آیا جس کے لیے فوری اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہو۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ برطانوی جمناسٹکس کو دیگر اراکین کی طرف سے بھی اکیڈمی کے تجربات کے حوالے سے مثبت آراء موصول ہوئیں ہیں۔
پس منظر
بی بی سی اسپورٹ کے مطابق، ہائزن کپ جو کہ گیارہ سے سولہ سال تک کے کم عمر کھلاڑیوں کا مقابلہ ہے، کے لیے کلیر ہیگ کی بطور کوچ تقرری کا اعلان اس وقت کیا گیا تھا جب تحقیقات کا عمل جاری تھا۔ کلیر ہیگ یارکشائر ویمنز آرٹسٹک جمناسٹکس کی اسکواڈ کوآرڈینیٹر کے طور پر بھی فرائض انجام دے رہی ہیں۔ انگریز جمناسٹکس کا ادارہ برطانوی جمناسٹکس کے ماتحت کام کرتا ہے جو بین الاقوامی مقابلوں کے لیے ٹیموں کے انتخاب سمیت مختلف علاقائی اور قومی امور کی نگرانی کرتا ہے۔
بی بی سی اسپورٹ سے گمنام رہنے کی شرط پر بات کرنے والے متاثرین نے وارننگ یافتہ کوچ کی بین الاقوامی سطح پر موجودگی کو شدید مایوسی قرار دیا۔ متاثرہ افراد نے اس صورتحال کو ان تمام لوگوں کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جنہوں نے باضابطہ طریقوں سے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔
اس معاملے کی اہمیت
کھیلوں کے مبصرین کے نزدیک، نوجوانوں کے کھیلوں میں فلاحی شکایات سے نمٹنے کا طریقہ احتساب اور ادارہ جاتی شفافیت کے درمیان ایک نازک توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ جب کھیلوں کے نگراں ادارے تادیبی وارننگ جاری کرنے کے باوجود مسابقتی ماحول میں افراد کی شرکت کی اجازت دیتے ہیں، تو اس سے حفاظتی پالیسیوں کے نفاذ اور ان کے ابلاغ پر سوالات اٹھتے ہیں۔

