اقوام متحدہ کے فورم پر پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی محاذ آرائی میں اس وقت مزید شدت آگئی جب اسلام آباد کی جانب سے نئی دہلی پر سنگین الزامات عائد کیے گئے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے عالمی ادارے میں مؤقف اختیار کیا کہ بھارت طالبان کو فعال حمایت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ کئی دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی بھی کر رہا ہے۔
بین الاقوامی فورم پر ہونے والی ان گفتگوؤں نے خطے کے دیرینہ تنازعات اور کشیدگی کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق، پاکستانی نمائندوں نے اس موقع پر بھارت کو انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں کرنے والا ملک بھی قرار دیا۔
انتہا پسندی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات
اقوام متحدہ میں دیے گئے بیانات میں ہمسایہ ملک کے اندرونی حالات پر بھی بھرپور روشنی ڈالی گئی۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اپنے اندرونی حصوں میں اسلام فوبیا اور انتہا پسند نظریات کو مرکزی دھارے میں شامل کر لیا ہے۔
یہ بیانات اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان مختلف بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر جاری سفارتی کشمکش اور تبادلہ خیال کا ایک تسلسل ہیں۔ اس فورم نے پاکستان کو خطے کے امن، سلامتی اور افغانستان کی صورتحال سے متعلق اپنے سکیورٹی خدشات کھل کر سامنے رکھنے کا موقع فراہم کیا۔
وسیع تر سفارتی پس منظر
سفارتی نمائندے اکثر عالمی اداروں کے اجلاسوں کو اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات اور سکیورٹی جائزوں کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون نے نوٹ کیا کہ تازہ ترین الزامات دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان گہرے ہوتے ہوئے باہمی عدم اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔
جب عالمی برادری جنوبی ایشیا کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، تو اس نوعیت کے بیانات اس خطے کے پیچیدہ سکیورٹی ماحول کی غمازی کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے پاس خطے میں اثر و رسوخ اور اندرونی حکومتی امور کے حوالے سے اپنے اپنے متضاد مؤقف موجود ہیں۔
