کیا اسلام آباد میں بیٹھی حکومت کے پاس پیٹرولیم لیوی کے ہدف خود بخود بدلنے کا کوئی اختیار ہے؟ جیونیوز کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت مالیاتی پالیسیوں کے حوالے سے بین الاقوامی معاہدوں کی پابند ہے اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی عالمی شراکت داروں سے باضابطہ مشاورت کے بغیر ممکن نہیں۔
اسلام آباد میں پارلیمانی جانچ پڑتال
یہ اہم انکشافات 8 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس کے دوران سامنے آئے۔ جیونیوز کے مطابق اس اجلاس میں توانائی کے شعبے کی اہم پالیسیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ عوامی مالیاتی بوجھ اور وسائل کی دستیابی پر بھی گہری بحث کی گئی۔
کمیٹی میں ایندھن اور لیوی پر تحفظات
اجلاس کے دوران اراکین پارلیمنٹ نے مہنگائی اور توانائی کی رسد کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا۔ جیونیوز کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ معیشت کے لیے پیٹرول کے مقابلے میں ڈیزل کی جسمانی دستیابی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اسی اجلاس کے دوران ایک اور رکن نے موجودہ پیٹرولیم لیوی کو عام شہریوں پر ایک بھاری بوجھ قرار دیتے ہوئے اس پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔

