ڈیجیٹل مارکیٹ پلیس میں ہونے والے 17 ارب ڈالر کے اس معاہدے نے روزمرہ کی اشیاء کی خریداری کے انداز کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، ڈور ڈیش نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ اپنے امریکی حریف انسٹا کارٹ کو تقریباً 17 ارب ڈالر میں خریدے گا، جو کہ کمپنی کی تاریخ کا سب سے بڑا سودا ہے اور اس کا مقصد گروسری ڈیلیوری کے شعبے میں قدم جمانا ہے۔

اہم تفصیلات

ایکسپریس ٹریبیون نے رائٹرز اور انڈسٹری کے تجزیہ کاروں کے حوالے سے بتایا کہ ڈور ڈیش نے انسٹا کارٹ کے حصص یافتگان کو فی حصص 65 ڈالر دینے کی پیشکش کی ہے، جو 22 اکتوبر کو حصص کی بند ہونے والی قیمت پر تقریباً 26 فیصد زیادہ ہے۔ اس ادائیگی کا کم از کم 75 فیصد حصہ نقد ہوگا، جبکہ حصص یافتگان کے پاس نقد رقم، ڈور ڈیش کے حصص، یا دونوں کا انتخاب کرنے کا اختیار ہوگا۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، انسٹا کارٹ کے بانی اپوروا مہتا نے بتایا کہ دونوں کمپنیاں پچھلے کئی سالوں سے وقتاً فوقتاً اس اتحاد پر غور کرتی رہی ہیں، جبکہ اس معاملے سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ باضابطہ بات چیت گرمیوں میں شروع ہوئی تھی۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق، انسٹا کارٹ نے ابتدائی طور پر اوبر کے ساتھ بھی سودے کے حوالے سے بات چیت کی تھی، تاہم رائڈ ہرائڈگ کمپنی نے اس معاملے کو آگے نہیں بڑھایا۔ مارننگ سٹار کے تجزیہ کار مارٹن زومسکی نے بتایا کہ ریسٹورنٹ سے کھانے کی ترسیل کا شعبہ اب پختہ ہو رہا ہے اور اب ترقی کا انحصار ہفتہ وار گروسری اور روزمرہ کی اشیاء جیسے بار بار اور زیادہ قیمت والے آرڈرز پر ہے۔ ڈور ڈیش کے بانی اور سی ای او ٹونی ژو کا کہنا تھا کہ آن لائن گروسری کے شعبے کو سنبھالنا سب سے مشکل کاموں میں سے ایک ہے، اور انسٹا کارٹ نے برسوں کی محنت سے اس کام کو بہتر طریقے سے سیکھا ہے۔

پس منظر

ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، یہ حصولِ نو اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں کاروباری انضمام کا عمل تیز ہو رہا ہے۔ کمپنیاں اس وقت سست روی سے ملنے والے آرڈرز، بڑھتی ہوئی لاگت اور گِگ ورکرز کے حقوق سے متعلق سخت ریگولیٹری جانچ پڑتال جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں۔ آن لائن گروسری کی ترسیل تیزی سے مقبول ہو رہی ہے کیونکہ صارفین سہولت کو ترجیح دیتے ہیں، اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران میں جنگ کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے خریداروں کو دکانوں پر جانے سے گریز کرنے کی ایک اور وجہ فراہم کی ہے۔ اس کے علاوہ، مصنوعی ذہانت پر مبنی کمپنیاں بھی آن لائن خریداری کے نظام کو بدل رہی ہیں کیونکہ زیادہ تر صارفین میٹا کی میوز اور ذاتی اسسٹنٹ ایپ انسٹنکٹ جیسے اے آئی پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہے ہیں۔

اس کی اہمیت

پاکستان سے عالمی مارکیٹ کے رجحانات کا مشاہدہ کرنے والے قارئین کے لیے، یہ بڑی ڈیل ایپ پر مبنی پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل تجارت کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کو ظاہر کرتی ہے۔ جیسے جیسے بڑے بین الاقوامی ادارے روایتی کھانوں کی ترسیل سے آگے بڑھ کر ضروری اشیاء کی ریٹیل مارکیٹ میں قدم رکھ رہے ہیں، یہ معاہدہ جدید ایپ اکیشی میں بڑے پیمانے، ٹیکنالوجی کے انضمام اور کارکردگی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔