جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی سفارتی فضا میں ایک بار پھر سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں جہاں عالمی طاقتیں اپنے خطے کے اتحادیوں اور حریفوں کے ساتھ حکمت عملی از سر نو طے کر رہی ہیں۔ ایکسپریس ٹریبون کی رپورٹ کے مطابق روس کی جانب سے عبوری افغان حکومت کے ساتھ حالیہ رابطے بنیادی طور پر امریکہ سے جڑے ہوئے خوف اور خدشات کا نتیجہ ہیں۔

سفارتی ہندسے اور اسٹریٹجک مجبوریاں

بین الاقوامی امور کے ماہرین اور سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماسکو کے حالیہ اقدامات خطے میں واشنگٹن کے دیرپا اثرات اور موجودگی سے متعلق اسٹریٹجک اضطراب کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگرچہ ماسکو اور کابل کے درمیان سفارتی رابطے مسلسل جاری ہیں، لیکن مبصرین ان تمام میل جول کو ایک نپی تلی حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

اسلام آباد پر اثرات

خطے کی ان بدلتی ہوئی حرکیات کے باوجود روایتی ریاستی تعلقات اپنی جگہ برقرار ہیں۔ ایکسپریس ٹریبون کے مطابق اس تمام صورتحال کے باوجود ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے لیے ماسکو کی مجموعی پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے، اور روایتی تعلقات بدستور اپنی ڈگر پر قائم ہیں۔