پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے اتوار کے روز ضلع کرم میں افغانستان کی جانب سے ہونے والی دراندازی کی کوشش کو مؤثر انداز میں ناکام بنا دیا۔ بین الاقوامی سرحد کی طرف بڑھنے والے اس گروہ کی نقل و حرکت کو 10 اکتوبر کو بروقت محسوس کر لیا گیا تھا، جس پر سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کی۔
جیو نیوز اور آئی ایس پی آر کی اطلاعات کے مطابق، اس کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز کو افغان طالبان کی پوسٹوں سے بھی فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا جو اس دراندازی کی پشت پناہی کر رہی تھیں۔ چوکنا جوانوں کی پیشہ ورانہ اور درست جوابی فائرنگ کے نتیجے میں متعدد جانی نقصان ہوا۔ تاہم اس شدید فائرنگ کے دوران غذر کے رہائشی 40 سالہ نائب صوبیدار ہدایت امان نے مادرِ وطن کا دفاع کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔
پس منظر
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر پیش آنے والا یہ واقعہ پاکستان کے اس مؤقف کی سچائی کو اجاگر کرتا ہے کہ افغان طالبان رجیم دہشت گرد تنظیموں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روٹنے میں ناکام رہی ہے، اور یہ رجیم مبینہ طور پر سرحد پار دہشت گردی کی سرپرستی کر رہی ہے۔ عسکری حکام کے مطابق افغان طالبان اپنی بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں مسلسل ناکام رہے ہیں۔
یہ کارروائی خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں دو روز قبل کی گئی ایک خفیہ معلومات پر مبنی کارروائی کے بعد سامنے آئی ہے، جہاں آئی ایس پی آر کی جانب سے عزمِ استحکام وژن کے تحت کارروائی کرتے ہوئے فتنة الخوارج کے 7 دہشت گردوں کو ہلاک اور ان کے کئی ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا تھا۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کنفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (PICSS) کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان میں سرحد پار دہشت گردانہ واقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پی آئی سی ایس ایس کی رپورٹ کے مطابق ستمبر 2026 میں ملک بھر میں عسکریت پسندوں کے حملوں کی تعداد گزشتہ 12 برسوں میں سب سے زیادہ رہی، جہاں اگست کے 199 حملوں کے مقابلے میں ستمبر کے دوران ملک بھر میں 225 حملے ریکارڈ کیے گئے، جو کہ 13 فیصد اضافہ ہے اور حملوں میں اضافے کا مسلسل تیسرا مہینہ ہے۔
صورتحال کی اہمیت
موجودہ سکیورٹی صورتحال پاک افغان سرحد پر درپیش مستقل چیلنجز اور وفاقی اپیکس کمیٹی کے منظور کردہ نیشنل ایکشن پلان کے عزمِ استحکام وژن کے تحت غیر ملکی سرپرستی میں چلنے والی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششوں کو ظاہر کرتی ہے۔ قومی سرحدوں کے دفاع اور بقایا خطرات کے خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز کی انسدادِ دہشت گردی کی مہم عزم و حوصلے کے ساتھ جاری ہے۔

