تیرانا کی سڑکوں پر آنسو گیس اور واٹر کینن کے مقابلے میں پتھراؤ جاری ہے، جہاں ہزاروں نوجوان مسلسل چوتھے روز بھی سڑکوں پر موجود ہیں۔ خبر رساں اداروں اے ایف پی اور رائٹرز کے مطابق یہ مظاہریں سرکاری بدعنوانی اور جامعات کی خراب حالت کے خلاف کیے جا رہے ہیں، جن میں شرکاء کی جانب سے وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم ایڈی راما نے ایک ویڈیو پیغام میں ان احتجاجی مظاہروں کو مقامی مسائل کا نتیجہ قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے پیچھے ایسے غیر ملکی ہاتھ ہیں جو البانیہ میں امن نہیں دیکھنا چاہتے۔ دوسری جانب وزارتِ تعلیم کے باہر پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جہاں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا جبکہ مظاہرین نے پتھراؤ کیا۔

اے ایف پی اور رائٹرز کے مطابق یہ احتجاج اب دارالحکومت سے نکل کر البانسان، شکودرا اور کورکا جیسے شہروں تک پھیل چکا ہے جہاں مظاہرین نے سرکاری عمارتوں، مالیاتی اداروں اور بینکوں کو نشانہ بنایا۔ وزیراعظم کے دفتر، وزارتِ خزانہ اور وزارتِ انصاف کے دفاتر پر اینٹوں اور کنکریٹ کے بلاکس پھینکے گئے جبکہ کچرے کے ڈبوں کو آگ لگا دی گئی۔ پولیس کے بیان کے حوالے سے بتایا گیا کہ جمعرات کی شام تشدد کے الزامات کے تحت 160 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

مظاہرین وزیراعظم کے استعفے کے ساتھ ساتھ تعلیمی اور انتخابی اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں، تاہم حکومت نے بدعنوانی کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ اے ایف پی اور رائٹرز کے مطابق وزیراعظم نے تعلیمی اخراجات بڑھنے کے معاملے پر بات چیت کی حامی بھری ہے لیکن عہدہ چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا ہے، اور مؤقف اپنایا ہے کہ ان کا ہٹنا یورپی یونین کے ساتھ الحاق کے مذاکرات کو ادھورا چھوڑنے کے مترادف ہوگا۔

پس منظر

اے ایف پی اور رائٹرز کے مطابق موجودہ کشیدگی اس سے پہلے کے پرامن مظاہروں کے بعد شروع ہوئی جو البانیہ کے ساحلی علاقے کے ایک حصے کو ایک لگژری ریزورٹ پروجیکٹ کے لیے فروخت کرنے پر شروع ہوئے تھے۔ وزیراعظم ایڈی راما نے گزشتہ سال 2028 تک البانیہ کو یورپی یونین میں شامل کرانے کے وعدے پر چوتھی بار کامیابی حاصل کی تھی، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بدعنوانی کے اسکینڈلز نے ان کوششوں کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستانی اور عالمی قارئین کے لیے تیرانا کے یہ واقعات اندرونی حکمرانی، بین الاقوامی اقتصادی عزائم اور عوامی بے چینی کے پیچیدہ تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ صورتحال یہ بتاتی ہے کہ بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبے کس طرح اندرونی کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں اور ترقی پذیر معیشتوں میں نوجوان نسل کو کن مشکل سماجی و اقتصادی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔