دہشت اور اندھیروں کے اس دور کو گزرے کئی دہائیاں بیت چکی ہیں، مگر اپنوں کی تلاش میںٹکٹکی باندھے بیٹھے خاندانوں کے زخم اب بھی ہرے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور فرانزک ٹیموں نے ارجنٹائن کی آخری فوجی آمریت کے دوران جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے کم از کم 38 افراد کی باقیات کی کامیابی کے ساتھ شناخت کر لی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق یہ اہم اور صبر آزما شناخت کا عمل 'لا پرلا' نامی ایک خفیہ حراستی مرکز کے قریب انجام پایا، جیسا کہ صحافی ٹریسا بو نے اپنی رپورٹ میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق شناخت کیے جانے والے یہ افراد ارجنٹائن کے اس سیاہ دور کی بھینٹ چڑھے تھے جب ملک میں فوجی آمریت مسلط تھی۔ اس دور میں لوگوں کو زبردستی غائب کرنے اور خفیہ حراستی مراکز میں رکھنے کے گھناؤنے معمولات عام تھے، جن میں لا پرلا بھی شامل ہے جہاں قیدیوں کو قتل کرنے سے پہلے خفیہ طور پر رکھا جاتا تھا۔
اس خبر کی اہمیت کیا ہے
عام قارئین کے لیے، جبری گمشدگیوں کے شکار افراد کی شناخت کی یہ طویل جنگ آمریت کی انسانی قیمت اور متاثرہ خاندانوں کو برسوں بعد دلی سکون پہنچانے کے لیے کی جانے والی محنت اور لگن کو واضح کرتی ہے۔
