جب اسکور بورڈ پر مخالف ٹیم کا خسارہ 100 تک جا پہنچے اور اس کے باوجود ایک یادگار لمحہ محسوس ہو، تو سمجھ لیجیے کہ میدان میں کچھ ایسا ہو رہا ہے جو تاریخ کا حصہ بننے جا رہا ہے۔ بی بی سی اسپورٹ کی رپورٹ کے مطابق، سڈنی میں کھیلے گئے رگبی لیگ ورلڈ کپ کے ایک انتہائی یکطرفہ مقابلے میں آسٹریلیا نے ٹورنامنٹ میں پہلی بار حصہ لینے والی ویلز کی ٹیم کو 6 کے مقابلے میں 124 پوائنٹس سے شکست دے کر بین الاقوامی تاریخ کا سب سے بڑا اسکور بنا ڈالا۔

بی بی سی اسپورٹ کے مطابق، آسٹریلوی ٹیم 'جلاروز' نے اپنے چوتھے مسلسل ٹائٹل کے حصول کے لیے میدان میں بے رحمانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 21 ٹرائی اسکور کیں۔ ہاف ٹائم تک آسٹریلیا کا اسکور 60-0 تھا، جو مینز اور ویمنز دونوں کیٹیگریز کے ورلڈ کپ میچوں کی تاریخ کا سب سے بڑا ہاف ٹائم اسکور ہے۔ آسٹریلوی ونگر جیمی چیپ مین نے پہلے ہاف میں ہی ہیٹ ٹرک اسکور کی اور میچ کے آخری منٹ میں اپنی چھٹی ٹرائی مکمل کی۔ اس کارکردگی کے ساتھ آسٹریلیا نے 2012 میں سویڈن کے خلاف ڈنمارک کی مردوں کی ٹیم کے 122-8 کے اسکور کا ریکارڈ توڑ دیا۔ بی بی سی اسپورٹ کے مطابق، یہ 118 پوائنٹس کا فتحیابی فرق کسی بھی خواتین کے میچ میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ مردوں میں فرانس کا 2003 میں سربیا کے خلاف 120-0 سے فتح کا ریکارڈ اب بھی برقرار ہے۔ اتنی بھاری شکست کے باوجود، ویلز کی ٹیم اس وقت خوشی سے جھوم اٹھی جب پیج ٹراوس نے ٹورنامنٹ میں آسٹریلیا کے خلاف پہلی ٹرائی اسکور کر کے اسکور کو 100-6 تک پہنچایا، جس کا ذکر بی بی سی اسپورٹ نے بھی کیا۔

پس منظر

بی بی سی اسپورٹ کی رپورٹ کے مطابق، اس میچ نے بین الاقوامی سطح پر تجربے اور تیاری کے واضح فرق کو عیاں کر دیا۔ آسٹریلوی ٹیم مسلسل تین بار کی چیمپئن کی حیثیت سے میدان میں اتری تھی، جن کے پاس تجربہ کار کھلاڑیوں کی کہکشاں موجود تھی۔ اس کے برعکس، ویلز کی ٹیم نے 2021 میں اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے کے بعد اس ٹورنامنٹ میں پہلی بار شرکت کی۔ آسٹریلیا کے خلاف اس پہلے تاریخی مقابلے سے قبل ٹام برنڈل کی زیر تربیت ویلز ٹیم اپنی پوری تاریخ میں صرف 16 میچ کھیل چکی تھی، جنہیں اس سے قبل ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے خلاف 7-6 اور ساموا کے خلاف 76-0 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بی بی سی اسپورٹ کے مطابق، ان مشکل نتائج کے باوجود ویلز کی کپتان بیتھان ڈینٹن نے ٹورنامنٹ کے پہلے دو راؤنڈز میں شاندار کھیل پیش کیا اور آسٹریلیا کے طوفانی حملوں سے قبل 77 ٹیکلز کے ساتھ ٹورنامنٹ کی نمایاں ترین کھلاڑی رہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان اور دنیا بھر کے کھیلوں کے شائقین کے لیے ایسے یکطرفہ بین الاقوامی مقابلے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ابھرتی ہوئی ٹیموں کو تجربہ کار اور پیشہ ورانہ طاقتوں کے خلاف عالمی سطح پر کتنے بڑے ترقیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اگرچہ بڑے کھیلوں میں بھاری شکستیں گھریلو انفراسٹرکچر اور باصلاحیت کھلاڑیوں کی تیاری میں موجود ساختی فرق کو ظاہر کرتی ہیں، لیکن یہ اعلیٰ ترین سطح پر مقابلہ کرنے والے انڈر ڈاگ کھلاڑیوں کی ہمت اور عزم کی کہانی بھی بیان کرتی ہیں۔