فٹبال کی دنیا میں اس وقت کھلبلی مچ گئی جب بیلن ڈی آر کی باضابطہ ویب سائٹ پر انگلینڈ کے اسٹرائیکر ہری کین کو 2026 کا فاتح قرار دینے والا ایک مضمون اچانک آن لائن آ گیا۔ بی بی سی اسپورٹ کے مطابق یہ تحریر پیر کے روز جی ایم ٹی کے مطابق شام 5 بج کر 15 منٹ کے بعد شائع کی گئی، جو لندن کے پلاڈیئم تھیٹر میں ہونے والے باضابطہ اعلان سے ساڑھے چار گھنٹے سے بھی زیادہ پہلے کا وقت تھا۔
اس غیر متوقع اشاعت نے انٹرنیٹ پر شدید گومگو کی کیفیت پیدا کر دی اور شائقین حیران رہ گئے کہ کیا ستمبر کے آخر میں صحافیوں کے ووٹوں سے طے پانے والے فاتح کا نام وقت سے پہلے ہی لیک ہو گیا ہے۔ بی بی سی اسپورٹ کی رپورٹ کے مطابق جب اس ویب سائٹ کی مزید پڑتال کی گئی تو یہ بات سامنے آئی کہ بارسلونا کے لامین یامال، ریال میڈرڈ کے کائلین ایمباپے اور انٹر میامی کے لیونل میسی سمیت دیگر اہم کھلاڑیوں کے نام سے بھی ایسے ہی مسودے تیار کیے گئے تھے۔
پس منظر
بی بی سی اسپورٹ کے مطابق ہری کین اور ایمباپے سے متعلق مضامین برطانوی وقت کے مطابق شام 5 بج کر 40 منٹ سے ذرا پہلے ویب سائٹ سے ہٹا لیے گئے۔ تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ مضامین غلطی سے شائع ہوئے تھے یا ان کا ہٹایا جانا دانستہ تھا اور نقصان کو سنبھالنے کی کوئی کوشش تھی۔ خواتین کے ایوارڈ کے لیے سرفہرست کھلاڑیوں، جن میں لندن سٹی لائنز کی اسٹار ایلکسیا پٹیلاس اور بارسلونا کی ایوا پاجور شامل ہیں، کے بارے میں بھی ایسے ہی پیشگی مضامین دریافت ہوئے۔ بی بی سی اسپورٹ نے واضح کیا کہ اگر ہری کین یہ ایوارڈ جیت کر 2001 کے بعد یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے انگریز بنتے ہیں تو انہیں باضابطہ تقریب تک انتظار کرنا ہوگا۔
اس واقعے کی اہمیت
پاکستان بھر میں بین الاقوامی فٹبال کے شوقین افراد کے لیے اس قسم کی تکنیکی غلطیاں اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ عالمی سطح کے کھیلوں کے ایوارڈز کے گرد کس قدر میڈیا کا دباؤ اور ڈیجیٹل چیلنجز موجود ہوتے ہیں۔ جیسا کہ پاکستان میں بین الاقوامی فٹبال کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے، ایسے واقعات عالمی کھیلوں کی تنظیموں کے پس پردہ انتظامات اور تیاریوں کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔

