ڈھاکہ کے صنعتی علاقوں میں دسویں بار آنسو گیس اور ساؤنڈ گرنیڈز کا استعمال کیا گیا جبکہ گارجمنٹ ورکرز مسلسل تیسرے روز بھی سڑکوں پر موجود رہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں فیکٹریاں عارضی طور پر بند ہو گئیں۔ الجزیرہ اور روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق پیر کے روز ڈھاکہ کے علاقے میرپور، ساور، آشودیا اور گازی پور کے اہم صنعتی مراکز میں شدید احتجاج دیکھا گیا اور سڑکوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔

الجزیرہ کے مطابق ہفتے کے روز احتجاج شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 500 فیکٹریاں عارضی طور پر بند کی جا چکی ہیں۔ احتجاج کرنے والے کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ ماہانہ کم از کم اجرت بڑھا کر 30,000 ٹکا (تقریباً 242 ڈالر) کی جائے، جو کہ موجودہ 12,500 ٹکا (101 ڈالر) سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم طارق رحمان نے وزراء اور مشیروں کا ہنگامی اجلاس طلب کیا، جبکہ روئٹرز اور الجزیرہ کی اطلاعات کے مطابق حکومت نے اتوار کے روز تنخواہوں کے معیار کا جائزہ لینے کے لیے ایک نیا ویج بورڈ بھی تشکیل دے دیا۔

پس منظر

الجزیرہ اور روئٹرز کے مطابق بنگلہ دیش کی ملبوسات کی صنعت تقریباً 38 ارب ڈالر کی ہے جو ملک میں روزگار اور برآمدی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ موجودہ تنخواہیں بڑھتی ہوئی مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ بنگلہ دیش گارمنٹ اینڈ انڈسٹریل ورکرز فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری اور ویج بورڈ کے رکن بابو اختر نے بیان دیا کہ بنگلہ دیش میں ملبوسات کے شعبے کی اجرتیں دنیا میں سب سے کم ہیں، اور انہوں نے زور دیا کہ فیکٹری مالکان کم اجرت والے مزدوروں کی محنت پر کاروبار نہیں چلا سکتے بلکہ انہیں بین الاقوامی خریداروں کے ساتھ بہتر قیمتوں پر بات چیت کرنی چاہیے۔

دوسری جانب، بنگلہ دیش گارمنٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر محمود حسن خان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ویج بورڈ تشکیل دے کر پہلے ہی ایک قدم اٹھا لیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکام کو توقع ہے کہ کارکن جائزے کے عمل کو آگے بڑھنے دیں گے، ساتھ ہی انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر احتجاج پیر کو بھی جاری رہا تو صنعت کے پاس "کام نہیں تو اجرت نہیں" کی شق پر عمل کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ الجزیرہ نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ فیکٹری مالکان کو بڑھتی ہوئی لاگت، ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جنگ سے جڑی توانائی مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال، اور ویت نام، کمبوڈیا اور بھارت کے حریفوں کے ساتھ مسابقت جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

یہ اہم کیوں ہے

خطے کے قارئین کے لیے بنگلہ دیش میں پیدا ہونے والی یہ صورتحال اس نازک توازن کو اجاگر کرتی ہے جو برآمدی معیشت کو برقرار رکھنے اور مہنگائی کا شکار مزدوروں کو مناسب معاوضہ دینے کے درمیان پایا جاتا ہے۔ چونکہ جنوبی ایشیا کے ممالک عالمی سپلائی چین کے دباؤ، توانائی کے مسائل اور بڑھتی ہوئی لاگت کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے اہم پیداواری شعبوں میں مزدوروں کی تحریکیں گہرے معاشی اثرات کی حامل ہوتی ہیں۔