جب آدھی رات کے بعد کام کا آغاز ہوا تو ہزاروں رضاکار پتھر اور مٹی سے دعاؤں کے یہ مظاہر تعمیر کرنے کے لیے ہمالیہ کے دریا کے کنارے نکل پڑے۔ الجزیرہ کے مطابق، 40 ہزار سے زائد رضاکاروں نے ایک ہی دن میں 108 بدھ اسٹوپا کی تعمیر میں حصہ لیا، اور اس تقریب میں لگ بھگ 2 لاکھ افراد نے شرکت کی۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، یہ 15 میٹر اونچے ڈھانچے بھارتی سرحد کے قریب مستقبل کے گیلے پھو مائنڈ فلنس سٹی کے مقام پر 12 کلومیٹر کے رقبے پر نصب کیے گئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہ جگمی کھیسر نامگیال وانگچک نے کہا کہ انہیں خدشہ تھا کہ اتنے کم وقت میں یہ یادگاریں تعمیر کرنا شاید ممکن نہ ہو سکے، لیکن انہوں نے اس کامیابی پر شکر گزار ہونے کا اظہار کیا۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق، ہمالیہ کی اس خشکی سے گھری ہوئی ریاست کو معاشی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، گرتی ہوئی شرح پیدائش اور ہنر مند کارکنوں کی بڑے پیمانے پر ہجرت شامل ہے۔ بادشاہ کی طرف سے تصور کیے گئے اور ڈینش معماروں کے ڈیزائن کردہ گیلے پھو مائنڈ فلنس سٹی کا مقصد پائیدار کاروبار، سبز ٹیکنالوجی، تعلیم، سیاحت اور مالیاتی خدمات میں سرمایہ کاری کو راغب کر کے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو ملک میں رہنے کی ترغیب دینا ہے۔
یہ مقام فی الحال جنوبی بھوٹان میں تقریباً 10 ہزار آبادی کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے، جو دارالحکومت تھمفو سے لگ بھگ 240 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، بادشاہ نے 2024 میں شاہی فرمان کے ذریعے اس خصوصی اقتصادی زون کا قیام عمل میں لایا تاکہ ایک متحرک معاشی مرکز بنایا جا سکے۔ اگرچہ تجزیہ کاروں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا بھوٹان اتنی سرمایہ کاری حاصل کر پائے گا یا نہیں، لیکن بھارتی ارب پتی گوتم اڈانی جنوری میں اس منصوبے کے بانی رکن کے طور پر شامل ہوئے۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
خطے کے حالات پر نظر رکھنے والے قارئین کے لیے یہ اقدام اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ کس طرح ہمسایہ ممالک روایتی ثقافتی اقدار کے ساتھ ساتھ معاشی بحالی، نوجوانوں کو روکنے اور پائیدار ترقی کے طریقوں پر کام کر رہے ہیں۔ یہ منصوبہ خطے کے بنیادی ڈھانچے کے عزائم کو، جن میں اس مقام کو بھارت کے ریلوے نیٹ ورک سے ملانے کے منصوبے بھی شامل ہیں، مقامی معاشی حکمت عملی کے ساتھ جوڑتا ہے۔

