رومانیہ کے علاقائی پانیوں میں لنگر انداز ایک کیمیکل اور تیل بردار جہاز پر اچانک شعلے بھڑک اٹھے، جس کے بعد فوری طور پر عملے کو جہاز سے باہر نکال لیا گیا۔ الجزیرہ اور رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، کوموروس کے پرچم والے جہاز 'یارا جے' کو پیش آنے والے اس واقعے کے حوالے سے رومانیہ کے حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا یہ کوئی ڈرون حملہ تھا یا نہیں۔

واقعے کی تفصیلات اور علاقائی اثرات

رائٹرز کے مطابق، رومانیہ کے وزیر دفاع راڈو میروتا نے بدھ کے روز بتایا کہ فی الحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا 'یارا جے' کو کسی ڈرون نے نشانہ بنایا یا نہیں، اور اس حوالے سے باقاعدہ تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، بدھ کے روز یوکرین کے بارڈر کے قریب رومانیہ کی فضائی حدود کی بھی متعدد بار خلاف ورزی کی گئی۔

یہ واقعہ اس خطے میں پیش آنے والے سمندری حادثات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ رائٹرز کے مطابق، بلغاریہ کے وزیر اعظم رومن رادیو نے بتایا کہ منگل کے روز بلغاریہ کے بحیرہ اسود کے ساحل کے قریب ڈرون حملوں میں دو بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک جہاز ڈوب گیا۔ وزیر اعظم رادیو کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس حملے کے ذمہ داروں کا واضح طور پر تعین نہیں ہو سکا، لیکن اس کا فائدہ روس کو پہنچتا ہے، اور انہوں نے اعلان کیا کہ روسی سفیر کو طلب کیا جائے گا، جیسا کہ رائٹرز نے نقل کیا۔

رائٹرز کے مطابق، اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں بھی رومانیہ کے علاقائی پانیوں سے باہر اناج لے جانے والے ایک جہاز میں آگ لگ گئی تھی اور وہ ڈوب گیا تھا۔ یوکرین نے اس واقعے کا ذمہ دار روسی ڈرونز کو ٹھہرایا تھا، جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوئے جبکہ گیارہ کو بچا لیا گیا۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر اس واقعے کو ایک شہری جہاز پر دو روسی ڈرونز کا خوفناک حملہ قرار دیا جو ترکیہ کی ملکیت تھا اور مکئی لے کر جا رہا تھا۔

علاوہ ازیں، رائٹرز کے مطابق بلغاریہ کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ ڈوبنے والے جہاز کے لاپتہ عملے کی تلاش کا آپریشن کسی بھی زندہ بچ جانے والے کے نہ ملنے پر ختم کر دیا گیا ہے۔

پس منظر

رائٹرز کے مطابق، روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ نے بحیرہ اسود میں سکیورٹی کے سنگین چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں، جہاں سمندری بارودی سرنگیں اور فضائی حدود کی خلاف ورزیاں تجارت اور توانائی کے اہم راستوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ رومانیہ جو کہ نیٹو کا رکن ہے اور یوکرین کے ساتھ زمینی سرحد رکھتا ہے، تنازع شروع ہونے کے بعد سے مسلسل ڈرونز کی جانب سے فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، کچھ مبصرین مشرقی یورپ کی فضائی حدود میں ان دراندازیوں کو نیٹو اور یورپی یونین کے دفاعی و جوابی صلاحیتوں کے امتحان کے طور پر دیکھتے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق، سمندری خطرات کے بڑھتے ہوئے پیش نظر بلغاریہ کی صدر الیانا ایوٹووا نے گزشتہ بدھ کو اعلان کیا کہ وہ بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے رومانیہ اور ترکیہ کو مشاورت کی دعوت دیں گی۔

یہ معاملہ کیوں اہم ہے؟

عام قارئین کے لیے، بحیرہ اسود میں سمندری سکیورٹی کے مسائل عالمی سپلائی چینز، تجارتی راستوں اور بالخصوص اناج اور توانائی کی درآمدات کی قیمتوں پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ چونکہ اہم راہداریوں کو فوجی دراندازیوں اور ہائبرڈ حملوں کی وجہ سے سکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے، اس لیے بین الاقوامی تجارت کا استحکام دنیا بھر کی معیشتوں کے لیے ایک انتہائی اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔