افریقن نیشنز کپ کے مستقبل کے شیڈول پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگ گیا ہے کیونکہ افریقی فٹ بال کی قیادت نے ٹورنامنٹ کے انعقاد کی فریکوینسی میں ممکنہ تبدیلی کا عندیہ دیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، کنفیڈریشن آف افریقن فٹ بال (CAF) کے صدر پٹریس موتسیپے نے انکشاف کیا ہے کہ تنظیم اپنے اس پرانے فیصلے پر دوبارہ غور کر رہی ہے جس کے تحت ٹورنامنٹ ہر چار سال بعد کرایا جانا تھا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، پٹریس موتسیپے نے سختی سے ان دعوؤں کی تردید کی ہے کہ سی اے ایف کیلنڈر کی اس تبدیلی کے معاملے پر فیفا (FIFA) یا یوفا (UEFA) کے کسی بیرونی دباؤ کے سامنے جھک رہا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، کیپ ورڈے میں تین روزہ اسٹریٹجی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سی اے ایف کے صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی بنیادی ذمے داری افریقی مفات کا فروغ ہے۔
پس منظر
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، موتسیپے نے گزشتہ سال دسمبر میں اعلان کیا تھا کہ دو سالہ یہ مقابلہ 2028 سے چار سالہ سائیکل میں تبدیل ہو جائے گا تاکہ فیفا کے بین الاقوامی کیلنڈر کے ساتھ مطابقت پیدا کی جا سکے۔ اس اعلان پر مراکش میں ہونے والے 2025 کے افریقن نیشنز کپ کے دوران کافی تنقید کی گئی تھی، جہاں ناقدین کا کہنا تھا کہ اس فیصلے میں افریقی فٹ بال کے بجائے یورپی مفادات کو ترجیح دی گئی ہے۔
کیپ ورڈے کے اجلاس کے دوران، موتسیپے نے بنیادی ڈھانچے کی تیاری کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کا بھی جواب دیا۔ الجزیرہ کے مطابق، انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ 2027 کا افریقن نیشنز کپ کینیا، تنزانیہ اور یوگنڈا میں طے شدہ شیڈول کے مطابق ہی ہوگا، اور انہوں نے حالیہ فرانسیسی میڈیا کی ان رپورٹس کو مسترد کر دیا جن میں تعمیراتی تاخیر اور ٹورنامنٹ کی منتقلی کے خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
کھیلوں کے شائقین اور بین الاقوامی فٹ بال انتظامیہ کے پیروکاروں کے لیے، ٹورنامنٹ کے انعقاد کے وقفے پر ہونے والی یہ بحث عالمی گورننگ باڈیز اور علاقائی کنفیڈریشنز کے درمیان نازک توازن کو ظاہر کرتی ہے۔ کیلنڈر کی مطابقت سے متعلق فیصلے کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود، نشریاتی شیڈول اور دنیا بھر کی فٹ بال فیڈریشنز کی مالی پائیداری پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

