مہینوں کی بے یقینی کے بعد اب افریقی نیشنز کپ (AFCON) کے تاج کا تنازع اپنے انجام کے قریب پہنچ رہا ہے، کیونکہ کھیلوں کی عدالت عظمیٰ نے جمعرات کو ہونے والی سماعت کے بعد جلد فیصلے کا اعلان کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ الجزیرہ اور رائیٹرز کی رپورٹس کے مطابق، سینیگال نے افریقی فٹ بال کنفیڈریشن (CAF) کے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے جس کے تحت ان سے ٹائٹل واپس لے کر میزبان ملک مراکش کو 3-0 سے فاتح قرار دے دیا گیا تھا۔

رائیٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں سال جنوری میں ربات میں کھیلے گئے فائنل میں سینیگال نے میزبان ٹیم کے خلاف اضافی وقت میں 1-0 سے کامیابی حاصل کی تھی۔ الجزیرہ کے مطابق تنازع اس وقت شروع ہوا جب مقررہ وقت میں سینیگال کے خلاف پنالٹی دی گئی، جس پر کھلاڑیوں نے احتجاجاً 14 منٹ کے لیے میدان چھوڑ دیا تھا اور بعد میں واپس آکر کھیل دوبارہ شروع کیا۔ اگرچہ مراکش اس پنالٹی کو گول میں نہ بدل سکا اور سینیگال نے اضافی وقت میں میچ جیت لیا، تاہم CAF کے اپیل بورڈ نے دو ماہ بعد فیصلہ دیا کہ میدان چھوڑنے کی وجہ سے سینیگال میچ ہار چکا ہے۔

اس فیصلے کے بعد سینیگال نے 25 مارچ کو CAS میں اپیل دائر کی، جس پر جمعرات کو بند کمرے میں سماعت ہوئی۔

پس منظر

الجزیرہ اور رائیٹرز کے مطابق، اس قانونی جنگ کی سماعت کرنے والے CAS کے پینل کی صدارت فرانس کے سپورٹس لاء کے ماہر جیرالڈ سائمن نے کی، جن کے ساتھ اٹلی کے بین الاقوامی قانون کے پروفیسر لوئیگی فماگالی اور ہیمبرگ کے قانون کے پروفیسر الریچ ہاس بھی شامل تھے۔ CAS کے ڈائریکٹر جنرل ماتھیو ریب نے جنوری کے فائنل کے بعد سے شائقین کے طویل انتظار کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ کارروائی کا طریقہ کار تمام فریقین کی رضامندی سے طے کیا گیا تھا۔

اگرچہ ماتھیو ریب نے فیصلے کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا، لیکن انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ قانونی اور ضابطہ جاتی پہلوؤں پر غور کے بعد فیصلہ چند دنوں میں سامنے آ جائے گا۔ دوسری جانب مراکش کے وفد نے میڈیا سے بات کرنے سے گریز کیا، جبکہ سینیگال کے سیکرٹری جنرل عبداللہ سو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پختہ اعتماد کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ کھیلوں کے قانون کی پاسداری اور افریقہ کے وقار کی خاطر اس معاملے کا منصفانہ خاتمہ ضروری ہے۔

آگے کیا ہوگا

کھیلوں کی ثالثی عدالت (CAS) نے واضح کیا ہے کہ جمعرات کو ہونے والی سماعت کے اختتام کے بعد متنازع افکن ٹائٹل پر تفصیلی فیصلہ چند روز میں سنا دیا جائے گا۔