مکہ مکرمه کے خطے کو نشانہ بنانے والا ایک ڈرون فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا ہے، جبکہ خطے میں فوجی کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد نے تصدیق کی ہے کہ فضائی خطرے کو اس کے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکام بنا دیا گیا۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق، اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے مکہ کے علاقے میں ایک حوثی ڈرون کو کامیابی سے روکا اور تباہ کیا۔ ترکی المالکی نے اس سے پہلے یہ بھی بتایا تھا کہ مغربی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والا ایک حوثی کروز میزائل بھی اتحادی افواج نے تباہ کر دیا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعات یمن میں حوثیوں کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر اتحاد کے اعلان کردہ فوجی آپریشن کے ساتھ پیش آئے ہیں، اس سے قبل حوثیوں نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں پر حملوں کا اعلان کیا تھا جن میں چھ حملے شامل تھے۔
ایک اور پیش رفت کے حوالے سے ایکسپریس ٹریبیون نے بتایا ہے کہ یمن کی مسلح افواج نے ان اطلاعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جن کے مطابق حوثی فورسز نے تعز میں مبینہ طور پر زہریلے مادوں پر مشتمل گولے استعمال کیے۔ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ زہریلے مادوں کے مبینہ استعمال کے نتیجے میں شہریوں اور مزاحمتی جنگجوؤں میں زہر خورانی اور دم گھٹنے کے واقعات پیش آئے، جس کے بعد فوری بین الاقوامی تحقیقات اور بند راستوں کو کھولنے اور انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پس منظر
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب کی قیادت والا اتحاد مارچ 2015 سے یمن کے تنازع میں سرگرم ہے اور ستمبر 2014 میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرنے والے حوثیوں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کر رہا ہے۔ تعز اس دہائی طویل خانہ جنگی کا ایک اہم مرکز بنا ہوا ہے جہاں مسلسل لڑیاں، سنائپر فائرنگ، رہائشی علاقوں پر گولہ باری اور پانی، خوراک، ادویات اور ضروری سپلائی کو روکنے والی شدید ناکہ بندی کے مسائل موجود ہیں۔
اہمیت کیوں ہے؟
مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور مکہ مکرمہ جیسے مقدس مقامات کا تحفظ پاکستان اور پوری امت مسلمہ کے کروڑوں افراد کے لیے انتہائی گہری روحانی اہمیت کا حامل ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عام شہریوں اور اہم انفراسٹرکچر کو درپیش مبینہ خطرات خطے کے امن اور استحکام کے حوالے سے گہری تشویش کا باعث ہیں۔

