جب ایک پیشہ ور کھلاڑی کو شدید زخمی ہونے کے بعد ہنگامی طبی امداد کے لیے عوام سے چندہ مانگنا پڑ جائے، تو یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ کھلاڑیوں کا محافظ نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ بی بی سی اسپورٹ کی رپورٹ کے مطابق، سابق برطانوی باکسنگ چیمپیئن پال اسمتھ نے اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ لڑاکا کھیلوں کے اس فرسودہ نظام میں کھلاڑیوں کا استحصال کیا جاتا ہے، انہیں زخمی چھوڑ دیا جاتا ہے اور پھر بھلا دیا جاتا ہے۔
بی بی سی اسپورٹ نے بتایا ہے کہ پال اسمتھ اس تنظیم کا حصہ ہیں جسے 'گلوبل فائٹرز ایسوسی ایشن' (GFA) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ تنظیم گزشتہ سال ایک یونین کے طور پر قائم کی گئی تھی تاکہ کماڑی کھیلوں سے وابستہ افراد کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔ یہ گروپ منصفانہ معاہدوں، بہتر اجرت، بیمہ، پینشن، صحت اور حفاظت کے درست معیارات کے لیے مہم چلانے کا ارادہ رکھتا ہے، اور ایک ایسا باضابطہ پلیٹ فارم فراہم کرنا چاہتا ہے جہاں کھلاڑی اپنے مسائل کی رپورٹ کر سکیں۔
جی ایف اے نے حالیہ عوامی چندہ مہمات کا حوالہ دیا ہے جنہوں نے لی ریویز جیسے کھلاڑیوں کو شدید چوٹوں کے بعد ہنگامی علاج میں مدد فراہم کی۔ پال اسمتھ، جنہوں نے 2017 میں ریٹائرمنٹ سے پہلے سپر مڈل ویٹ ورلڈ ٹائٹل کے لیے 3 بار مقابلہ کیا تھا، نے بی بی سی اسپورٹ کو بتایا کہ حادثے کے بعد باکسنگ کمیونٹی کا پیسوں کے لیے ہاتھ پھیلانا نظام کی سنگین ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
پس منظر
بی بی سی اسپورٹ کے مطابق، گلوبل فائٹرز ایسوسی ایشن تمام کماڑی کھیلوں کے لیے ایک نیا مرکزی ادارہ بننے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ فلاح و بہبود کے دیرینہ مسائل کا حل نکالا جا سکے۔ یہ نفع نہ کمانے والی تنظیم اپنی سرگرمیوں کے لیے کراؤد فنڈنگ مہم کے ذریعے 500,000 پاؤنڈز جمع کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بی بی سی اسپورٹ نے رپورٹ کیا کہ جی ایف اے نے نامور بیرسٹر جوناتھن کیپلن کے سی کو اس تحقیقات کی قیادت کے لیے مقرر کیا ہے جو نچلی سطح سے لے کر پیشہ ورانہ درجے تک کماڑی کھیلوں کے شرکا کی حفاظت، حکمرانی اور ان کے ساتھ ہونے والے سلوک کا جائزہ لے گی۔ چیئرمین کے نامزد کردہ سیمن بیزالجٹ نے بی بی سی اسپورٹ کو بتایا کہ جہاں پچھلی ایک دہائی کے دوران رگبی، فٹ بال اور ہارس رِڈنگ جیسے پیشہ ورانہ کھیلوں نے کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود میں بہتری کی ہے، وہیں کماڑی کھیل تاحال غیر محفوظ ہیں اور ان کی کوئی پیشہ ورانہ نمائندگی یا صحت و حفاظت کے بنیادی معیارات موجود نہیں ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستان کے کھیلوں کے شائقین اور مبصرین کے لیے کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود، منصفانہ معاہدوں اور ادارہ جاتی تحفظ کے بارے میں یہ گفتگو گہرے اثرات رکھتی ہے، کیونکہ یہاں بھی مختلف کھیلوں میں پروفیشنل کھلاڑیوں کی سرپرستی کے حوالے سے بحث جاری رہتی ہے۔ یہ بات دنیا بھر میں اتھلیٹک گورننس کے لیے ایک کائناتی چیلنج بنی ہوئی ہے کہ جسمانی طور پر سخت کھیلوں میں حصہ لینے والوں کو بیمہ، طبی مدد اور منصفانہ نمائندگی تک رسائی فراہم کی جائے۔
آگے کیا ہوگا
بی بی سی اسپورٹ کے مطابق، بیرسٹر جوناتھن کیپلن کے سی اس تحقیقات کو انجام دینے کے ذمہ دار ہیں اور وہ کماڑی کھیلوں کے شرکا کی حفاظت، حکمرانی اور ان کے ساتھ برتاؤ سے متعلق جمع کیے گئے شواہد اور بیانات کی روشنی میں ایک تفصیلی رپورٹ پیش کریں گے۔

