کوسٹا ریکا میں پرتشدد جرائم اور منظم گینگ کی سرگرمیوں میں اضافے کے بعد ایک نئی بڑی جیل کا افتتاح کر دیا گیا ہے، جہاں 5100 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ہوگی۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، آرگنائزڈ کرائم کے خلاف قائم کیے گئے اس ہائی کنٹینمنٹ سینٹر (سی اے سی سی او) کا باضابطہ افتتاح صدر لورا فرنینڈز نے کیا، جن کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ملک میں سخت سکیورٹی کا نظام قائم کرنا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر فرنینڈز نے واضح کیا کہ یہ مرکز مجرموں کو سخت سکیورٹی پالیسی کا سامنا کرنے پر مجبور کرے گا اور اس سے ملک کو سکیورٹی کے معاملے میں ایک اہم مثال کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ یہ نیا جیل خانہ ملک کی موجودہ مجموعی قیدیوں کی آبادی کا تقریباً 20 فیصد بنتا ہے۔
الجزیرہ نے بتایا کہ وزیر انصاف گیبریل اگیلا نے کہا ہے کہ قیدیوں کی پہلی منتقلی اکتوبر کے آخر میں کی جائے گی، جس کا مقصد حکومت کو جیلوں کے نظام پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے اور منظم جرائم کے اثرات کو روکنے میں مدد دینا ہے۔ خطے بھر میں کئی رہنما ایل سلواڈور کے صدر نییب بوکیلے کی طرز پر سخت اقدامات اپنا رہے ہیں، جن کی بڑیپیمانے پر گرفتاریوں کی مہم اور بعض شہری آزادیوں معطل کرنے کے اقدامات کو مقبولیت بھی حاصل ہوئی ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے اس پر تنقید بھی کی جاتی رہی ہے۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق، کوسٹا ریکا میں حالیہ برسوں کے دوران قتل کی وارداتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا، جہاں سال 2023 میں 905، سال 2024 میں 876 اور سال 2025 میں 873 اموات ریکارڈ کی گئیں۔ الجزیرہ کے توسط سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس رجحان کی ایک بڑی وجہ منشیات کی سمگلنگ کے منافع بخش راستوں پر قبضے کے لیے جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، لاطینی امریکہ کے دیگر ممالک میں بھی بڑے پیمانے پر جیلیں بنانے کے منصوبے زیر غور ہیں۔ پیرو میں نجی طور پر نو منتخب صدر کییکو فوجیموری نے ایل سلواڈور کے دہشت گردی سے متعلق قید خانے کا دورہ کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ ویسی ہی تنصیب تیار کی جا سکے۔ کولمبیا میں صدر ابیلاڈو ڈی لا ایسپریلا نے اپنی انتخابی مہم میں 10 بڑی جیلیں بنانے کا وعدہ کیا تھا، جبکہ برازیل میں دائیں بازو کے سینیٹر فلاویو بولسونارو نے اپنے صدارتی پروگرام میں سلواڈور کے ماڈل کی روشنی میں پانچ بڑی جیلیں بنانے کے منصوبے شامل کیے ہیں۔
اس کی اہمیت کیا ہے
پاکستان سے بین الاقوامی سکیورٹی کے رجحانات کا جائزہ لینے والے قارئین کے لیے یہ پیش رفت بڑے پیمانے پر قید و بند کے ذریعے ریاستی کنٹرول کو مضبوط بنانے اور روایتی شہری آزادیوں کے تحفظ کے درمیان جاری عالمی بحث کو اجاگر کرتی ہے۔ دنیا بھر میں حکومتیں جب پرتشدد جرائم اور منظم سمگلنگ میں اضافے کا سامنا کرتی ہیں، تو عوامی تحفظ اور آئینی حقوق کے درمیان توازن برقرار رکھنا تمام جمہوری نظاموں کے پالیسی سازوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔

