اتوار کے روز یوکرین کے بعض حصوں میں اس وقت شدید خوف و ہراس پھیل گیا جب ایک سرکاری فضائی الرٹ موبائل ایپ پر ایٹمی اور کیمیائی خطرات کے علاوہ سڑکوں پر لڑائی کی جھوٹی وارننگز نشر ہونے لگیں۔ یوکرین کی فضائیہ کے مطابق، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس الرٹ ایپلیکیشن کو کسی دشمن کی مداخلت یا ہیکنگ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے فوراً بعد حکام کی طرف سے یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ تابکاری کا کوئی حقیقی خطرہ موجود نہیں۔
الجزیرہ اور دیگر خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق، ان جھوٹی پیغامات میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ روس کا ہائپرسونک اورشنک میزائل استعمال کیا گیا ہے۔ الجزیرہ کے توسط سے یوکرین کے مرکز برائے اسٹریٹجک کمیونیکیشنز (اسپراودی) نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں اس ہیکنگ کا براہ راست ذمہ دار روس کو ٹھہرایا۔ ادھر دارالحکومت کییف کے حکام نے واضح کیا کہ اس واقعے کے دوران کییف شہر کے لیے مخصوص ایک دوسری موبائل ایپ بالکل معمول کے مطابق کام کرتی رہی۔
اس واقعے کے چند گھنٹے بعد، پیر کی صبح سویرے، روسی وزارتِ ہنگامی حالات نے اعلان کیا کہ اس کی اپنی موبائل ایپلیکیشن بھی ایک بڑے سائبر حملے کی زد میں آ گئی ہے۔ ٹیلی گرام پر جاری ہونے والے وزارت کے بیان کے حوالے سے رپورٹس میں بتایا گیا کہ اس سیکیورٹی خلاف ورزی کے نتیجے میں اس کے پلیٹ فارم پر بھی غلط معلومات پھیلائی گئیں۔
پس منظر
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، یہ سائبر واقعات دونوں ممالک کے درمیان خیرسن میں جنگ بندی کے خاتمے کے فوراً بعد رونما ہوئے۔ منگل کے روز شروع ہونے والی اور اتوار کو ختم ہونے والی یہ مقامی جنگ بندی اس تنازع کے دوران اب تک ریکارڈ کی جانے والی سب سے طویل وقفہ تھی۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
پاکستان سے بین الاقوامی تنازعات کا جائزہ لینے والے قارئین کے لیے یہ ڈیجیٹل خلل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید جنگ کے دوران سول انفراسٹرکچر اور پبلک کمیونیکیشن کے ذرائع کتنے غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ چونکہ موبائل ایپلیکیشنز شہریوں کی حفاظت کے لیے بنیادی سہارے کا کردار ادا کر رہی ہیں، اس لیے پبلک الرٹ سسٹمز کو نشانہ بنانے والے سائبر آپریشنز یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کس طرح فرنٹ لائنز سے دور رہنے والی آبادیوں میں افواہیں اور خوف پھیلانے کے لیے معلومات کے ذرائع کو ہتھیار بنایا جا سکتا ہے۔

