پاکستان کے زرعی میدانوں پر ایک بڑا سایا منڈلا رہا ہے کیونکہ گندم کی بوائی کے اہم ترین سیزن میں زمین کی خوراک سمندر میں ہی لنگر انداز ہو کر رہ گئی ہے۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، ڈی اے پی کھاد لانے والے بحری جہاز کراچی بندرگاہ کے بیرونی لنگر گاہوں اور برتھ کی قطاروں میں پھنسے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے کسانوں کو وہ بنیادی غذائی اجزاء نہیں مل پا رہے جو پودوں کی ابتدائی جڑوں کو مضبوط کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔
اہم حقائق
بزنس ریکارڈر کی رپورٹس کے مطابق انتظامی تاخیر، کسٹم کے مراحل کی سست رفتاری اور کارگو ٹرمینلز پر شدید اژدھام کی وجہ سے زرعی سپلائی لائنیں بری طرح متاثر ہو چکی ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے دیہی علاقوں سے ملنے والی اطلاعات بتاتی ہیں کہ کاشتکاروں کو کھاد کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی مارکیٹوں میں قلت بڑھتے ہی ڈیلروں نے دستیابی کو محدود اور کوٹہ مقرر کرنا شروع کر دیا ہے۔
پس منظر
ڈی اے پی وہ ضروری کھاد ہے جو فصل کے ابتدائی ایام میں گندم کے پودوں کی جڑوں کی مضبوطی کے لیے زمین میں ڈالی جاتی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق پورٹ حکام اور ٹرمینل آپریٹرز پھنسے ہوئے جہازوں کی ترسیل تیز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اکتوبر اور نومبر کے اس نازک وقت میں زمین تک کھاد کی فراہمی تحال مشکل بنی ہوئی ہے۔
صورتحال کیوں سنگین ہے؟
بزنس ریکارڈر کے ذریعے سامنے آنے والے زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کھاد کے استعمال کا درست وقت صرف دو سے تین ہفتے نکل جانے سے پودوں کی نشوونما ہمیشہ کے لیے رک سکتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس تاخیر کی وجہ سے گندم کی مجموعی پیداوار میں 20 سے 25 فیصد تک کمی کا اندیشہ ہے، جو نہ صرف کسانوں کی لاگت بڑھائے گا بلکہ ملکی سطح پر غذائی تحفظ کے لیے بھی بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
