عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے اور نرخ ایک بار پھر نیچے آنے کی راہ پر ہیں۔ واشنگٹن میں بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال اور خلیجی سمندری گزرگاہوں میں سیکیورٹی خدشات کے درمیان تیل کے سودے اتار چڑھاؤ کی زد میں ہیں۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کے اختتام پر خام تیل کے نرخوں میں کچھ بہتری ضرور دیکھی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود دونوں بڑے معاہدے رواں ہفتے دوہندسوں کی بڑی کمی کا شکار ہیں۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق برینٹ خام تیل کے جنوری کے سودے 1.57 ڈالر اضافے کے ساتھ 99.86 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 1.10 ڈالر بڑھ کر 91.62 ڈالر فی بیرل پر طے پایا۔ ان آخری دنوں کی ریکوری کے باوجود برینٹ کو ہفتہ وار بنیادوں پر 12 فیصد جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کو 12.1 فیصد تک گراوٹ کا سامنا ہے۔

پس منظر

قیمتوں میں اس اچانک مندی کا آغاز ہفتے کے اوتھ میں اس وقت ہوا جب امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتیجے میں کانگریس کے ایوانوں میں طاقت کا توازن بدلا اور ڈیموکریٹک پارٹی کو برتری مل گئی۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق اس سیاسی تبدیلی کی وجہ سے منڈی میں یہ توقعات پیدا ہوئیں کہ ایران کے خلاف جاری کشیدگی میں ممکنہ کمی آسکتی ہے۔ اس امید پر اکیلے بدھ کے روز قیمتوں میں 8 فیصد تک بڑی کمی ہوئی اور نرخ دو ماہ کی کم ترین سطح پر آئے۔

تاہم، بدھ اور جمعرات کے روز خلیج اور آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں پر حملوں کے بعد قیمتوں میں یہ گراوٹ تھم گئی۔ مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل کے اس اہم سمندری راستے پر پیدا ہونے والے خوف نے رسد کے بحران کو دوبارہ جنم دیا، جس سے منڈی میں ایک بار پھر تیزی دیکھی گئی۔ اے این زیڈ کے سینئر کموڈٹی اسٹریٹجسٹ ڈینیل ہائنز نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ بیوپاریوں اور سرمایہ کاروں نے ہفتے کے وسط میں کی جانے والی فروخت کو ضرورت سے زیادہ ردعمل قرار دیا۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان جیسے ملک کے عام صارفین اور معاشی منصوبہ سازوں کے لیے عالمی منڈی میں تیل کی ان لہروں کے اثرات انتہائی براہ راست ہوتے ہیں۔ ملکی سطح پر ایندھن کے نرخ، ٹرانسپورٹ کے کرائے اور مہنگائی کی عمومی لہر براہ راست ان ہی بین الاقوامی پیمانوں سے جڑی ہوئی ہے۔ چونکہ ملک اپنی توانائی کی بیشتر ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کا عکس یہاں کے پمپس پر صاف دکھائی دیتا ہے۔