خالی دفاتر اور سنسان شادی رجسٹریشن کچہریوں کے مناظر چین میں گہرے ہوتے ہوئے سماجی بحران کی عکاسی کر رہے ہیں، جہاں ازدواجی رشتوں میں بندھنے والوں کی تعداد دو دہائیوں کی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں خاندانی اقدار کو ہمیشہ بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے، شادی کے رجحان میں یہ نمایاں کمی ایک بڑے سماجی توازن کی تبدیلی کا پتہ دیتی ہے۔

بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق وزارتِ شہری امور کے جاری کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جنوری سے ستمبر کے آخر تک کل 4.65 ملین جوڑوں نے شادی کے لیے اندراج کروایا۔ میڈیا ادارے یسیکائی نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ یہ عرصہ گزشتہ 18 سالوں میں شادیوں کے لحاظ سے سب سے کم ترین رہا، جبکہ اس دوران ملک بھر میں 2.08 ملین طلاقیں بھی ریکارڈ کی گئیں۔

پس منظر

بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق سرکاری سطح پر اس رجحان کو پلٹنے کے لیے فیملی سب سڈیز، بچوں کی دیکھ بھال میں مدد اور پیدائش کے طبی اخراجات میں کمی جیسی ترغیبات دی جا رہی ہیں۔ حکام نے نوجوانوں کی فلاح کو شہری منصوبہ بندی، رہائش، صحت، تعلیم اور پبلک سروسز کا حصہ بنانے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے تاکہ ایک ایسا ماحول بن سکے جو خاندان کی تائید کرے۔ ان تمام کوششوں کے باوجود صورتحال یہ ہے کہ بزرگوں پر انحصار کی شرح بچوں سے بڑھ چکی ہے، اور سال 2025 میں آبادی مسلسل چوتھے سال بھی سکڑنے کا شکار رہی، جبکہ شرح پیدائش بھی ریکارڈ کم سطح پر ہے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی پیشگوئی کے مطابق، تولیدی عمر کی خواتین کی تعداد میں آنے والے برسوں میں نمایاں کمی متوقع ہے۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے دنیا کی دوسری بڑی معیشت میں ہونے والی یہ ڈیموگرافک تبدیلیاں اس بات کا واضح درس دیتی ہیں کہ کس طرح معاشی دباؤ اور سماجی پالیسیاں ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ چونکہ دنیا بھر کی مارکیٹیں ایک دوسرے سے جڑی ہیں، اس لیے بیرونی ممالک میں افرادی قوت کا کم ہونا اور عمر رسیدہ آبادی کا بڑھنا بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔