بین الاقوامی مالیاتی امور میں سختی لاتے ہوئے بیجنگ نے سرحد پار کرپشن کے خلاف ایک جامع قانون کی منظوری دے دی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، کانگریس کی قائمہ کمیٹی نے اس قانون کی توثیق کی ہے جس کا بنیادی مقصد بیرونی رشوت ستانی کی روک تھام اور ملکی خودمختاری و سلامتی کا تحفظ ہے۔

بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، یہ نیا قانونی ڈھانچہ غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے انسداد کے لیے بین الاقوامی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کی غرض سے تیار کیا گیا ہے۔ اسی تناظر میں سفارتی سطح پر ہونے والی سرگرمیوں کے حوالے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ فلپائن کے وزیر خارجہ نے حال ہی میں چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے باضابطہ بات چیت کی ہے۔

پس منظر

بزنس ریکارڈر نے اس قانون سازی کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی نے جمعہ کے روز اس قانون کی حتمی منظوری دی۔ اس نظام کو دوہرے مقصد کے تحت تشکیل دیا گیا ہے، یعنی ایک طرف سرحد پار بدعنوانی کے رجحان کو روکنا اور دوسری طرف غیر ملکی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے دائرہ کار کو وسیع کرنا ہے۔

اس کی اہمیت

عالمی تجارت اور علاقائی امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کے نزدیک دنیا کی بڑی معیشتوں میں اس طرح کی قانونی تبدیلیاں بین الاقوامی تعمیل کے معیارات اور دوطرفہ اقتصادی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔