مسلسل چھ دنوں کی طوفانی تیزی کے بعد کیا بھارتی حصص بازار کا یہ شاندار سفر اب تھمنے کو ہے؟ بزنس ریکارڈر کے مطابق، عالمی منڈیوں میں مندی کی لہر اور شدید فروخت کے دباؤ کے بعد اب بھارتی شیئر بازار میں بھی ایک وقفے یا تصحیح کا مرحلہ قریب نظر آتا ہے۔
بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، حالیہ دنوں میں نفٹی 50 انڈیکس میں 2.4 فیصد اور بی ایس ای سینسیکس میں 2.6 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا جو گزشتہ سات مہینوں کی بہترین کارکردگی تھی۔ اس تیزی کی بڑی وجوہات میں برینٹ خام تیل کی قیمتوں کا 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آنا اور غیر ملکی سرمائے کی بھاری آمد شامل تھیں۔ رپورٹ کے مطابق، غیر ملکی سرمایہ کاروں نے تقریباً 150 ارب روپے (1.6 ارب ڈالر) کی سرمایہ کاری کی، جو گزشتہ چھ سالوں میں کسی بھی ایک دن کی سب سے بڑی خالص خریداری تھی۔ یہ رجحان اس وقت دیکھنے میں آیا جب امریکی وسطی مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد عالمی سرمایہ کاروں نے مصنوعی ذہانت سے جڑے کاروبار سے رخ موڑ لیا۔
پس منظر
بزنس ریکارڈر کے مطابق، مارکیٹ کے اس شاندار رجحان کو اس توقع سے بھی تقویت ملی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے جس سے تیل سستا ہوا۔ اگرچہ عالمی منڈیوں کو امریکی خارجہ پالیسی اور مصنوعی ذہانت کے ضوابط کے حوالے سے شدید غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، تاہم سستے تیل اور بھارتی معیشت کا اس شعبے سے کم براہ راست تعلق ہونے کی وجہ سے مقامی مارکیٹ کو کافی حد تک سہارا ملا۔
اہمیت کیوں رکھتی ہے
بزنس ریکارڈر کی تفصیلات کے مطابق، پاکستانی مشاہدین کے لیے پڑوسی مارکیٹوں کی یہ اتھل پتھل اور عالمی تیل کی قیمتوں کا 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں اور امریکی پالیسیوں کی وجہ سے کس طرح خطے کا سرمایہ اور سرمایہ کاروں کا اعتماد پل بھر میں بدل سکتا ہے۔

