پنجاب کے کھیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے صوبائی انتظامیہ کی جانب سے کسانوں کو رعایتی نرخوں پر ہزاروں ٹریکٹرز دینے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، اس اقدام کا مقصد ملک کی زرعی معیشت میں جدید ٹیکنالوجی کا فروغ ہے۔
صوبائی وزیر برائے زراعت و لائیو سٹاک سید عاشق حسین کرمانی نے ساہیوال میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران اس منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق، وزیراعلیٰ کے گرین ٹریکٹر پروگرام کے چوتھے مرحلے کے تحت صوبے بھر میں 50 سے 65 ہارس پاور کے 10 ہزار ٹریکٹرز سبسڈی پر دیے جا رہے ہیں، جس میں فی ٹریکٹر 750,000 روپے کی سبسڈی شامل ہے۔ صرف ساہیوال کے ضلع میں 205 کسانوں کو کامیاب قرار دیا گیا جبکہ 177 کسانوں کو زرعی مشینری دی جا رہی ہے۔
پس منظر
رپورٹ کے مطابق، صوبائی حکام زرعی پیداوار میں اضافے اور دیہی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے میکانائزیشن کو انتہائی ضروری قرار دیتے ہیں۔ کسانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکام نے گندم کی خریداری کی قیمت 4,500 روپے فی من مقرر کی ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب سیڈ کارپوریشن کے ذریعے تصدیق شدہ گندم کے بیجوں کی فراہمی کے لیے 450 ملین روپے کی سبسڈی بھی رکھی گئی ہے۔
اہمیت
عام شہریوں اور کسانوں کے لیے ان مالی اقدامات کا مقصد کاشتکاروں کی آمدنی کو مستحکم کرنا اور خوراک کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ جدید مشینری اور سبسڈی والے اِن پٹس سے گندم جیسی بنیادی فصلوں کی لاگت اور دستیابی پر براہ راست اثر پڑتا ہے، جس سے پورے ملک کے گھرانوں کے بجٹ کو سہارا ملتا ہے۔

