مارکیٹ کی صورتحال

وال اسٹریٹ میں آنے والی حالیہ گراوٹ نے پوری دنیا کی مالیاتی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جب دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ میں مندی آتی ہے تو اس کا اثر ٹوکیو سے لے کر لندن تک ہر جگہ محسوس کیا جاتا ہے۔ سرمایہ کار اب پرخطر منصوبوں سے اپنا پیسہ نکال کر جاپانی ین اور بانڈز جیسے محفوظ اثاثوں میں منتقل کر رہے ہیں۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اسٹاک مارکیٹ میں اس اچانک مندی نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

اس بڑی تبدیلی کی بنیادی وجہ امریکی کانگریس کے انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی غیر معمولی کامیابی بتائی جا رہی ہے۔ اس سیاسی تبدیلی کے ساتھ ہی مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے، خاص طور پر ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر و ترقی پر سخت ریگولیٹری پابندیوں کے خدشات نے سر اٹھا لیا ہے۔ نیس ڈیک (Nasdaq) انڈیکس کو اپریل 2025 کے بعد اپنے بدترین دن کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس نے ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ افراد کی نیندیں اڑا دی ہیں۔

سرمایہ کاروں کا محفوظ پناہ گاہوں کی جانب رخ

بزنس ریکارڈر کے مطابق، جیسے ہی اسٹاک مارکیٹ میں شیئرز کی قیمتیں گریں، سرمایہ کاروں نے اپنی رقم بچانے کے لیے محفوظ کرنسیوں کا رخ کیا۔ جاپانی ین کی قدر میں 0.2 فیصد اضافہ ہوا اور یہ ڈالر کے مقابلے میں 157.40 کی سطح تک پہنچ گیا، جو ایک ہفتے کی بلند ترین سطح ہے۔ اسی طرح سوئس فرانک کی قیمت میں بھی ڈالر کے مقابلے میں بہتری دیکھی گئی، جبکہ ڈالر انڈیکس 101.55 پر مستحکم رہا۔

سرکاری بانڈز کی مارکیٹ میں بھی واضح ہلچل نظر آئی۔ رپورٹ کے مطابق 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع (Yield) میں کمی آئی ہے، جو ایشیائی مارکیٹ کے آغاز پر 10 ستمبر کے بعد اپنی کم ترین سطح کے قریب ٹریڈ کر رہے تھے۔

پس منظر اور عالمی اثرات

مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی اس فروخت نے ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف امریکی بانڈز سے ملنے والا منافع کم ہو رہا ہے جس سے ڈالر کی روایتی کشش متاثر ہوئی ہے، تو دوسری طرف جاپانی ین کو اب مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے خلاف ایک مضبوط ڈھال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

عالمی مارکیٹوں میں ہونے والی یہ تبدیلیاں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ امریکی ٹریژری بانڈز اور بڑی کرنسیوں کی قیمتوں میں ردوبدل براہ راست بین الاقوامی تجارت، خام مال کی قیمتوں اور ترقی پذیر معیشتوں میں آنے والے غیر ملکی سرمائے پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔