ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری کو ممکنہ ناکامی سے بچانے کے اخراجات ایسے مقام پر جا پہنچے ہیں جو گزشتہ چار برسوں کے دوران نہیں دیکھے گئے۔ بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں مصنوعی ذہانت کی پائیداری اور منافع بخش ہونے کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، ٹیک سرمایہ کار ادارے سافٹ بینک گروپ کے پانچ سالہ کریڈٹ ڈیفالٹ سواپ کا پھیلاؤ 22 بیس پوائنٹس اضافے کے ساتھ 466 بیس پوائنٹس تک جا پہنچا ہے، جو اکتوبر 2022 کے بعد سے اس کا سب سے بڑا مارجن ہے۔
مارکیٹ کے تجزیہ کار سافٹ بینک کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہونے والی سرمایہ کاری کے مستقبل کا ایک اہم اشاریہ قرار دیتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ چپ ڈیزائن کرنے والے ادارے آرم میں اس کا نمایاں حصہ اور فرنٹئیر ماڈل ڈویلپر اوپن اے آئی کے ساتھ اس کی بھاری مالیاتی وابستگی ہے۔
پس منظر
بزنس ریکارڈر کے مطابق، رواں سال سافٹ بینک کے مالی معاملات پر نظرثانی کی شدت میں اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ اوپن اے آئی میں اپنے حصے کو برقرار رکھنے کے لیے ریکارڈ منافع کی شرح پر حاصل کیے جانے والے بھاری قرضے ہیں۔ مالیاتی دباؤ میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب اوپن اے آئی نے اپنے پبلک شیئرز کے اجراء کو سال 2027 تک مؤخر کر دیا، جس کی وجہ سے متوقع منافع کی واپسی کا عمل بھی تاخیر کا شکار ہو گیا۔
مزید برآں، فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ سافٹ بینک اپنی مصنوعی ذہانت کی مساعی کو جاری رکھنے کے لیے خلیجی ممالک کے سرمایہ کاروں سے 100 ارب ڈالر تک کی رقم حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان مارکیتی دباؤ کے ساتھ ساتھ، ریاستہائے متحدہ میں حالیہ وسطی مدت کے انتخابی نتائج اور سیاسی تبدیلیوں نے مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر کی ترقی میں ممکنہ سست روی کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے توسط سے دی گئی فوتورم گروپ کی تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان سیاسی تبدیلیوں کی وجہ سے ان ریاستوں میں جہاں گورنرز ترقیاتی کاموں کی رفتار دھیمی کر سکتے ہیں، امریکہ کی ایک تہائی ڈیٹا سینٹر کی صلاحیت خطرے میں پڑ گئی ہے، جس کا براہ راست اثر ان کمپنیوں پر پڑ رہا جنہوں نے انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے بھاری قرضے لے رکھے ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستان میں عام مشاہدہ کرنے والوں کے لیے، عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی فنڈنگ میں ہونے والی تبدیلیاں اور بین الاقوامی مارکیٹ کا اتار چڑھاؤ جدید معیشتوں کے باہم جڑے ہوئے ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ اصل مواد کا تعلق خصوصی طور پر بین الاقوامی کارپوریٹ فنانس سے ہے، تاہم مغربی منڈیوں کے پالیسی فیصلے اور کثیر القومی ٹیک اداروں کی مالیاتی صحت بالواسطہ طور پر عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد، سرمائے کی دستیابی اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے رخ کو تبدیل کر سکتی ہے۔

